اردو زبان میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کا مستند جریدہ

ایک “نیم مردہ” زومبی ستارے نے دنیا بھر کے فلکیات دانوں میں ہلچل مچا دی

595

اس نیم مردہ ستارے جسے “زومبی سٹار” Zombie Star کا نام بھی دیا گیا ہے نے اپنے خلاف معمول طرزعمل سے دنیا بھر کے ماہرین فلکیات اور سایئنسدانوں کو حیران و پریشان کیا ہوا ہے۔

یہ ستارہ زمین سے 500 نوری سال کے فاصلے پر موجود ہے۔ اور 2014 میں عین اس وقت دریافت ہوا جب یہ ایک دھماکے کے ساتھ پھٹ کر سپرنووا کی شکل اختیار کر رہا تھا۔
Zombie Starایک ستارہ جب اپنی مدت پوری کر کے مرنے کے قریب ہوتا ہے تو ایک بے پناہ دھماکے کے ساتھ پھٹتا ہے۔ یہ دھماکہ اتنا شدید ہوتاہے کہ اس سے پیدا ہونے والی روشنی کو پوری کائنات میں بآسانی دیکھا جا سکتا ہے۔ اس زبردست دھماکے کے ساتھ پھٹنے والے ستارے کو سپرنووا کہا جاتا ہے۔

عموماٗایک سپرنووا ستارہ پھٹنے کے بعد 100 دن کے اندر دھندلا جاتا ہے۔ اور آہیستہ آہیستہ اس کی روشنی مانند پڑنے لگتی ہے۔

eso1544a

تحریر جاری ہے۔ یہ بھی پڑھیں

لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ یہ نیم مردہ ستارہ پچھلے (PTF14hls) کا نام دیا گیا ہےپھٹنے کے بعد گزشتہ 1000 دن سے مزید روشن ہوتا چلا جا رہا ہے۔

کیلی فورنیا میں موجود مشاہدہ گاہ کے فلکیات دان اس بات پر حیران ہیں کہ اس زومبی ستارے کی روشنی سپرنووا کی شکل میں پھٹنے کے بعد بھی کم از کم پانچ بار کم زیادہ ہو چکی ہے۔ گویا آسان لفظوں میں یہ ستارہ مرنے کے باوجود بھی مدھم ہو کر ایک بار پھر روشن ہو جاتا ہے۔
starexploded
دنیا بھر کے سائینسدان اس عجیب و غریب مظہر پر کئی تھیوریاں پیش کر چکے ہیں۔
ایک تھیوری کے مطابق یہ زومبی ستارہ سورج سے بھی سو گنا زیادہ جسامت رکھتا تھا۔ اس بےحد ضخیم جسامت کی وجہ سے بیرونی تہہ پھٹنے کے باوجود اندرونی تہہ یعنی “کور” میں یہ عمل دوبارہ شروع ہو گیا۔

ہارورڈ یونیورسٹی کے شعبہ فلکیات کے چئیرمین ایوی لوئب اس بارہ میں ایک مختلف تھیوری پیش کرتے ہیں۔

ان کے خیال میں اس ستارے کے ساتھ موجود کوئی بلیک ہول یا مقنا تارہ (مقناطیسی ستارہ) اپنی بے پناہ مقناطیسی طاقت کی وجہ سے اس عجیب و غریب مظہر کا باعث بن سکتا ہے۔

ابھی یہ معلوم نہیں کہ کائنات میں اس طرز کا یہ اکیلا ستارہ ہے یا ایسے کئی اور بھی نیم مردہ ستارے موجود ہیں۔ تاہم یہ طے ہے کہ ایک نا ایک دن یہ ستارہ بھی انجام کو پہنچے گا۔ کیونکہ توانائی کا اخراج تو بہرصورت ہونا ہی ہے۔

تبصرے
لوڈنگ۔۔۔۔
error: اس ویب سائٹ پر شائع شدہ تمام مواد کے قانونی حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں