اردو زبان میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کا مستند جریدہ

اوبر کی ‘فلائنگ ٹیکسی’ 2020ء سے منظر عام پر آئے گی

Uber Electric Flying Taxi
444

اوبر کا ‘فلائنگ کار’ منصوبہ ایلیویٹ (Elevate) ایک مرتبہ پھر خبروں میں آ گیا ہے کیونکہ ادارے نے اعلان کیا ہے کہ اس منصوبے کا آغاز کس شہر سے ہوگا اور مستقبل کی یہ سروس کیسی ہوگی؟

پرتگال کے دارالحکومت لزبن میں ویب سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے اوبر کے ہیڈ آف پروڈکٹ جیف ہولڈن نے کہا کہ اوبر اپنے منصوبے میں تیسرے شہر لاس اینجلس کو شامل کر رہا ہے، جہاں وہ 2020ء تک اپنی فضائی ٹیکسی سروس کا تجربہ کرنا چاہتا ہے۔

ڈیلاس-فورٹ ورتھ اور دبئی پہلے ہی اس منصوبے میں اوبر کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ وہ ناسا کے ساتھ اسپیس ایکٹ معاہدہ کرچکے ہیں تاکہ ایک نیا ایئر ٹریفک کنٹرول سسٹم تخلیق کیا جا سکے جو کم بلندی پر چلنے والے، اور ممکنہ طور پر خودکار، ان جہازوں کو منظم کر سکے۔

اس موقع پر اوبر نے جو وڈیو جاری کی، وہ کسی خوابوں کی دنیا کی لگتی ہے۔ ایک خاتون مسافر اپنی اوبر ایپ کے ذریعے فلائٹ بک کرتی ہیں اور قریبی عمارت کی چھت پر واقع ‘اسکائی پورٹ’ تک جاتی ہیں۔ یہاں سکیورٹی عملہ تو نہیں دکھایا گیا البتہ مسافروں کا وزن ضرور ہوتے دکھایا گیا ہے کیونکہ یہ فلائٹ ٹیکسی وزن کے معاملے میں حساس ہوگی۔ چھت پر موجود یہ ‘ٹیکسی’ ہیلی کاپٹر اور ہوائی جہاز کا ملاپ لگتی ہے۔ پرواز کے دوران مسافر خاتون نیچے ٹریفک میں پھنسے بیچاروں کو دیکھتی نظر آتی ہیں۔

سننے میں تو یہ سب بہت اچھا لگتا ہے لیکن گوگل نے اس سروس کا وائٹ پیپر ابھی پچھلے سال ہی جاری کیا تھا اور اس منصوبے کی راہ میں زبردست رکاوٹیں حائل ہیں۔ ایک تو جس جہاز کا تصور کیا جا رہا ہے، جو ایک چھت سے دوسری چھت تک جائے، بجلی سے چلتا ہو، خودکار ہو، عمودی پرواز اور لینڈنگ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو، حقیقت میں وجود ہی نہیں رکھتا بلکہ ابھی تو اس منصوبے کو سہارا دینے والا انفرا اسٹرکچر تک موجود نہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ انجینیئرنگ اور سرکاری منظوری ایسی اڑن کاروں کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ پھر بھی اس وقت 19 ایسے ادارے میدان عمل میں موجود ہیں جو اڑن کاریں بنانے پر کام کر رہے ہیں۔ ان میں بوئنگ اور ایئربس جیسے بڑے ادارے بھی شامل ہیں اور کٹی ہاک جیسے نئے نویلے بھی، جو گوگل کے بانی لیری پیج نے بنایا ہے۔

بہرحال، اوبر کا کہنا ہے کہ اس سروس کے کرائے کم ہوں گے اور اوبر کی ‘فلائنگ ٹیکسی’ کا استعمال اپنی ذاتی گاڑی کے اخراجات سے بھی کم ہوگا۔ آپ کو یہ تو معلوم ہی ہوگا کہ اوبر کا اصل ہدف ہے گاڑی کی ملکیت کے تصور کو ختم کرنا۔ اڑن ٹیکسی اس سلسلے میں ایک اہم قدم ہوگا۔

یہ خواب حقیقت کا روپ کب دھارے گا؟ اس بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہے لیکن تصور کیجیے، ہزاروں بلکہ لاکھوں گاڑیاں روزانہ کی بنیاد پر ایک جگہ سے دوسری جگہ تک پرواز کریں اور سفر کا خرچہ 20 ڈالرز بھی نہ ہو!

Uber’s Electric Flying Taxi کے بارے میں مزید جاننے کے لیے یہ دلچسپ وڈیو ضرور ملاحظہ کیجیے

تبصرے
لوڈنگ۔۔۔۔
error: اس ویب سائٹ پر شائع شدہ تمام مواد کے قانونی حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں