اردو زبان میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کا مستند جریدہ

دو ستاروں کا ادغام اور کئی کائناتی راز طشت ازبام

دو نیوٹران ستارے آپس میں یوں ٹکرائے کہ سائینس کے صدیوں پرانے سوالات کا جواب دے دیا

1,207

روز اول سے ہی انسان کائنات کی مختلف گتھیوں کو سائنسی علوم کے ذریعے سلجھانے کی کوشش کرتا آیا ہے۔ گزرتے وقت کے ساتھ مخلتلف سائینسی آلات کی ایجاد نے ان گتھیوں کو سلجھانے میں انسان کی مدد کی ہے۔ لیکن ایسے سائنسی عقدوں کو حل کرنے میں ہمیشہ وقت لگتا ہے۔ شازونازر ہی کبھی ایسا ہوا ہو گا کہ کسی ایک دریافت نے سائنسی تحقیق کے پورے شعبے کو متاثر کیا ہو۔ انسانی جین کی نقشہ سازی میں دس سال سے زائد کا عرصہ لگا۔ جبکہ ثقلی موجوں کے ابتدائی تصور کے بعد اس کی دریافت میں کئی دہائیاں صرف ہوئیں۔ لیکن 17 اگست 2017 کو خلاء میں پیش آنے والے ایک واقعے نے سائینس خصوصا شعبہ فلکیات کی سینکڑوں گتھیوں کو ایک ہی جست میں سلجھا دیا۔

two-stars-slammed

اس واقع میں خلاء میں موجود دو نیوٹران ستارے آپس میں ٹکرائے۔ اور اس ٹکراؤ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے تعاملات و مشاہدات نے ان تمام سوالوں کے جواب دے دیے جنہوں نے کئی صدیوں سے فلکیات دانوں کو پریشان کیا ہوا تھا۔

نیوٹران ستارہ کائنات میں موجود اجسام میں بلیک ہول کے بعد سب سے زیادہ بھاری کثافت رکھتا ہے۔ اس میں مادے کی کثافت اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ اس کے ایک مربع سینٹی میٹر میں۔۔۔۔ زمین پر موجود سب سے بڑے پہاڑ ماؤنٹ ایورسٹ کی کل کیمیت سے بھی زیادہ مادہ سما سکتا ہے۔

اتنی بے پناہ کیمیت رکھنے والے دو نیوٹران ستارے جب آپس میں ٹکرائے تو اس کے اثرات پوری کائنات حتی کہ زمین پر بھی محسوس کیے گئے۔ اور زمین پر موجود ثقلی رصد گاہوں (لائیگو، ورگو) کے حساس آلات پر بھی ریکارڈ ہوئے۔

اس ٹکراؤ کے نتیجے میں ریکارڈ کیے گئے مشاہدات سے سائیسدان یہ پتہ لگانے میں کامیاب ہو گئے کہ گیما شعاعوں کی بوچھاڑوں (جو زمین کو جلا کر راکھ کر سکتی ہیں ) کا اصل ماخذ کیا ہے۔ اور کائنات میں موجود نایاب مادے مثلا سونا اور پلاٹینیم کہاں سے آئے اور ان کی تشکیل کیسے ہوئی۔
اس کے ساتھ ساتھ کائنات کے پھیلاؤ میں کردار ادا کرنے والے اسراع کی مقدار ماپنے کے سلسلے میں بھی آگہی حاصل ہوئی۔ صرف یہی نہیں بلکہ زمین پر ثقلی موجوں اور روشنی کی ایک ساتھ آمد سے یہ بھی تصدیق ہوئی کہ دونوں کی رفتار یکساں ہے۔

پکچر ابھی باقی ہے دوست۔۔۔۔۔۔ کیونکہ ابھی بہت کچھ سامنے آنا باقی ہے۔ فلکیات سے معمولی سی دلچسپی رکھنے والے احباب یہ سمجھتے ہیں کہ ان دریافتوں کی کتنی اہمیت ہے۔ فی الحال اس واقعے کے نتیجے میں پیدا ہونے والے تعاملات کا سائینسی سطح پر تجزیہ و تحقیق جاری ہے۔ اور شاید آیندہ کئی دہائیوں تک جاری رہے۔ ہارورڈ یونیورسٹی سے منسلک نامور خلاءباز EDO BERGERکے مطابق اس واقعے کو مکمل طور پر سمجھنے کے لیے ہمیں وقت چاہیے۔ کیونکہ ابھی تک ایسے آلات ہی ایجاد نہیں ہوئے جو کہ ان مشاہدات کا تجزیہ کر کے ان کے اصلی اثرات کا پتہ لگا سکیں۔

مشہور سائینسدان کوپرنئیس اور کیپلر سے لے کر ایڈورڈ ہبل اور آئین سٹائن تک شبعہ فلکیات میں جتنی بھی تحقیق کی گئی ہے اس میں بہت بڑے بدلاؤ آئے ہیں۔ اور دو نیوٹران ستاروں کا ٹکراؤ جسے GW170817 کا نام دیا گیا ہے بھی ان بدلاؤ میں سے ایک ہے۔ جو کائنات کے متعلق ہمارے بہت سے تصورات کو بدل کر رکھ دے گا۔

two-stars-slammed-each-other
گزشتہ سال ثقلی موجوں کی ابتدائی دریافت کے بعد یہ کہا جاتا تھا کہ پہلے تو ہم کائنات کو صرف دیکھ سکتے تھے اب ہم کائنات کو “سن” بھی سکتے ہیں۔ جبکہ نیوٹران ستاروں کے اس ٹکراؤ کے بعد یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہم کائنات کو نا صرف بہ یک وقت دیکھ اور سن سکتے ہیں بلکہ مشاہداتی لغت کے ذریعے اس کا تجزیہ بھی کر سکتے ہیں۔

زمانہ قدیم سے ہی انسان کے پیمانہ وقت کے مطابق یہ کائنات ساکن یعنی حالت سکون میں ہے۔ کیونکہ ہم آج اس پر نگاہ دوڑائیں اور دس سال بعد دیکھیں تب بھی ستارے اور کہکشائیں اپنی جگہ پر ہی نظر آیئں گے۔ لیکن GW170817 واقع نے ہمیں بتایا ہے کہ کائنات ساکن نہیں بلکہ “زندہ” ہے۔ اور انسانی پیمانہ وقت کے مطابق بھی تخلیق و فنا کی صورت میں سانس لے رہی ہے۔

آپ ایک لمحے کے لیے تصور کیجیے کہ یہ واقعہ زمین سے ایک ارب تیس کروڑ نوری سال کے فاصلہ پر وقوع پزیر ہوا۔ یعنی جب پہلی بار ان نیوٹران ستارون کے ٹکراؤ سے ثقلی موجوں اور روشنی کا اخراج ہوا تو اس وقت زمین پر زندگی ابھی ایک سادہ پودے کی صورت میں ارتقاء کے مراحل طے کر رہی تھی۔ لیکن زمین پر اس روشنی کے پہنچنے کے بعد انسانی پیمانہ وقت کے مطابق تین ہفتوں کے اندر ہی ہم اس واقعے کا سارا کھوج لگا چکے تھے۔ اور اس کی تہہ تک پہنچ چکے تھے۔ اس تیز رفتار پیمانہ وقت نے فلکیاتی تحقیق کے لیے بہت سی نئی راہیں کھول دی ہیں۔

ایک ارب تیس کروڑ نوری سال پیشتر دو نیوٹران ستاروں کے ادغام کے نتیجے میں پیدا ہونے والی لہریں جب رواں سال پہلی بار زمین سے ٹکرائیں تو امریکہ میں موجود “لائیگو” (لیزر تداخل پیماء پر مشتمل ثقلی موجوں کا پتہ لگانے والی مشاہدہ گاہ) اور اسی سے جڑی اٹلی میں موجود ورگو مشاہدہ گاہ میں نصب لیزر بیمز میں بہ یک وقت بہت ہی مختصر وقت(ایک سیکنڈ کے ہزارویں حصے) کے لیے ایک بدلاؤ آیا۔ یہ لیزر بیمز بہت ہی حساس ہیں اور انتہائی معمولی پیمانے پر ہونے والی تبدیلی کو بھی دریافت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ اسی بناء پر مشاہدہ گاہوں میں کام کرنے والے فلکیات دانوں نے اس تبدیلی کو فوری طور پر محسوس کر لیا۔

عین اسی لمحہ۔۔۔ جب زمینی مشاہدہ گاہ میں ان لہروں کو محسوس کیا گیا خلاء میں موجود “فرمی کی خلائی دوربین” پر گیما شعاعوں کی بوچھاڑ بھی محسوس کی گئی۔ ایک گھنٹے کے اندر اندر دنیا بھر میں موجود فلکیات دانوں نے چھ مختلف جگہوں سے ایک تیز چمکدار روشنی کے مشاہدے کی تصدیق کی جسے “کلونووا” کا نام دیا گیا۔ اس کے نو دن بعد ایکس۔ریز شعاعوں کی آمد ہوئی جبکہ ٹھیک سولہ دن بعد ریڈیائی لہریں بھی آن پہنچیں۔ اور یوں ان تمام دریافتوں کے نتیجے میں دنیا بھر کے سائینسدان دو نیوٹران ستاروں کے ادغام اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی ثقلی موجوں کا مکمل طور پر پتہ لگانے میں کامیاب ہو گئے۔

ثقلی موجوں کے متعلق ابتدائی خیال، بیسویں صدی کے عظیم سائنسدان البرٹ آئن سٹائن نے اپنے عمومی نظریہ اضافیت میں پیش کیا تھا۔ آئن سٹائن کے مطابق کسی جسم یا دو اجسام کے ٹکراؤ سے پیدا ہونے والی ثقلی موجیں زمان و مکاں کے تانے بانے میں خم ڈال سکتی ہیں۔ تاہم یہ خم یا فرق اتنے قلیل پیمانے اور وقت میں وقوع پزیر ہوتا ہے کہ عام آلات سے اس کا پتہ لگانا ناممکن ہے۔

اسی بات کو مد نظر رکھتے ہوئے گزشتہ اور موجودہ صدی میں حساس ترین مشاہدہ گاہوں ورگو اور لائیگو کی تعمیر کی گئی۔ جن میں موجود آلات کائنات میں کسی خفیف سی تبدیلی کو بھی محسوس کر سکتے ہیں۔ اور اس قیام کے صرف چند ماہ بعد ہی ورگو مشاہدہ گاہ میں نیٹران ستاروں کے ادغام اور ان سے پیدا ہونے والی ثقلی موجوں کا پتہ لگا لیا گیا۔ تاہم ابھی بہت سی دریافتیں باقی ہیں۔

راچیسٹر انسٹی ٹیوٹ برائے ٹیکنالوجی سے منسلک ماہر فلکیات رچرڈ شانیسی کے مطابق۔۔۔۔
“ابھی تو یہ صرف ابتداء ہے۔ اس واقعے نے فلکیات سے متعلق ہمارے بہت سے مختلف تخیلات کو ایک جگہ پر مجتمع کر دیا ہے۔ تاہم اس سے منسلک ڈیٹا اتنا وسیع ہے کہ آیندہ آنے والے سالوں میں مزید بہتر اور حساس ترین آلات پر مشتمل مشاہدہ گاہوں سے ہی ہم اسے بہتر طور پر سمجھ پائیں گے۔”

ماہرین کے مطابق ایسے بے شمار واقعات ہیں جو آج سے اربوں سال پہلے کائنات کے کسی نا کسی گوشے میں وقوع پزیر ہو چکے ہیں تاہم ان کی لہریں زمین پر آنا باقی ہیں۔ البتہ اس ایک واقعہ نے آیندہ آنے والے تمام مشاہدات پر تحقیق کے لیے ایک بنیاد فراہم کر دی ہے۔

تبصرے
لوڈنگ۔۔۔۔
error: اس ویب سائٹ پر شائع شدہ تمام مواد کے قانونی حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں