اردو زبان میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کا مستند جریدہ

سام سنگ کی جدید بیٹریاں صرف 12 منٹ میں چارج ہوں گی

1,160

اسمارٹ فون کے ڈیزائن اور سافٹویئر کو بہتر سے بہترین بنانے کی کوشش نے ہمیں اس مقام تک پہنچا دیا ہے جہاں ہمارے فونز ایک مرتبہ چارج ہونے کے بعد ایک دن ہی چل پاتے ہیں۔ اگر مستقبل میں ورچوئل ریالٹی یا آگمینٹڈ ریالٹی کی جانب قدم بڑھانے ہیں تو بیٹریوں کے حوالے سے کچھ کام کرنا ہوگا بلکہ سام سنگ اس سمت میں ایک اہم قدم اٹھا بھی چکا ہے۔

جنوبی کوریائی ادارے کا کہنا ہے کہ وہ بہتر بیٹریاں بنانے کے اور قریب پہنچ گیا ہے جن میں وہ لیتھیئم کی جگہ گریفین کے استعمال کی انقلابی ٹیکنالوجی استعمال کر رہا ہے۔ اس وقت دنیا کے بیشتر فونز اور بجلی سے چلنے والی گاڑیوں میں لیتھیئم بیٹریاں ہی نصب ہیں۔ لیکن سام سنگ نے کاربن کی ایک تبدیل شدہ صورت تیار کی ہے جسے “گریفین بال” کا نام دیا جا رہا ہے۔ اس کے بارے میں دعویٰ ہے کہ اس کے ذریعے بنائی گئی بیٹری لیتھیئم بیٹریوں کے مقابلے میں 45 فیصد زیادہ گنجائش کی حامل ہوگی اور صرف 12 منٹ کے اندر مکمل ریچارج ہو جائے گی۔ یعنی یہ فون صارفین کے لیے بہت بڑی خوش خبری ہے۔ یہی نہیں بلکہ یہ 60 درجہ سینٹی گریڈ کے ناقابل یقین درجہ حرارت پر بھی اچھی طرح کام کرے گی اور یہ خصوصیت اسے برقی گاڑیوں کے لیے کارآمد بناتی ہے یعنی دونوں طرح کے صارفین کے لیے گریفین بیٹریاں ایک بہت بڑا انقلاب برپا کر سکتی ہیں۔

Battery-Material

سائنس دانوں نے گریفین بال کا مادّہ تب پایا جب وہ گریفین کے ایک مرکب پر کام کر رہے تھے۔ یہ مادّہ اپنی مضبوطی اور برقی ایصالیت (conductivity) کی وجہ سے ویسے ہی معروف تھا اور ان دونوں خصوصیات کی وجہ سے یہ بیٹریاں بنانے کے لیے بہترین چیز ہے۔

گریفین کی بالز بنانے کے لیے سائنس دانوں نے اسے سلیکا کے ساتھ ملا کر لیتھیئم آیون بیٹریوں میں استعمال کیا اور بہتر چارجنگ اور بڑھتی ہوئی گنجائش پائی۔

سام سنگ نے ابھی تک اس منصوبے کے حوالے سے کوئی تاریخ جاری نہیں کی لیکن ہم جانتے ہیں کہ اپنی اس ٹیکنالوجی پر دو پیٹنٹس کے لیے درخواستیں دے چکا ہے۔ یہ دیکھنا ابھی باقی ہے کہ سام سنگ کس طرح اس ٹیکنالوجی کو مارکیٹ میں لاتا ہے اور آیا وہ دوسرے اداروں کو اس کی تیاری کا لائسنس دیتا ہے یا نہیں؟

تبصرے
لوڈنگ۔۔۔۔
error: اس ویب سائٹ پر شائع شدہ تمام مواد کے قانونی حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں