twitterfacebook

سام سنگ نے بنائی دنیا کی پہلی 8 جی بی LPDDR4 ریم

سام سنگ نے بنائی دنیا کی پہلی 8 جی بی LPDDR4 ریم

سام سنگ کے لیے گزشتہ کچھ ہفتے اچھے نہیں رہے۔ گلیکسی نوٹ 7 کی ناکامی کا صدمہ کم کرنے اور نقصان کے ازالے کے لیے سام سنگ نے اپنے پروسیسر، اسٹوریج اور ریم کو جدید بنانے پر تن دہی سے کام کرنا شروع کردیا ہے۔ اسی محنت کا نتیجہ دنیا کی پہلی 8 گیگا بائٹس کی حامل LPDDR4 (low power, double data rate 4 ) موبائل DRAM کی صورت میں نکلا ہے جو سام سنگ نے موبائل ڈیوائسز کے لیے متعارف کرائی ہے۔

اس ماڈیول کے بعد ایسے اسمارٹ فونز کے لیے راہ مزید ہموار ہوجائے گی جن میں 4 گیگا بائٹس سے زیادہ ریم موجود ہوگی۔ اس وقت جو جدید اسمارٹ فون دستیاب ہیں، ان میں سے بیشتر میں 4 گیگا بائٹس کی ریم نصب ہوتی ہے۔

کمپنی کے مطابق یہ ماڈیول موبائل صارفین کے فون کے استعمال کو مزید بہتر بنائے گا۔یہ خاص طور پر اُن صارفین کےلیے بہترین ہوگا جو الٹرا ہائی ڈیفی نیشن اور بڑی اسکرین کی حامل ڈیوائسز استعمال کرتے ہیں۔ چونکہ اب جدید اسمارٹ فون 4K ویڈیو ریکارڈنگ بھی کرتے ہیں اور مجازی حقیقت (ورچوئل ریالٹی) کی سہولت بھی رکھتے ہیں، اس لیے ان ڈیوائسز کو زیادہ ریم درکار ہوتی ہے۔

سام سنگ نے اپنی پریس ریلیز میں مزید بتایا ہے کہ یہ 8 گیگا بائٹس گنجائش والی ریم بنیادی طور پر 16 گیگا بٹس LPDDR4 میموری کی چار چپس کے ذریعے بنائی گئی ہے۔ ان چپس کی تیاری 10 نینو میٹر پروسس پر کی گئی ہے جو کہ ایک بڑی کامیابی ہے۔ یاد رہے کہ 10 نینو میٹر پروسس کا مطلب ہے کہ اس چپ میں موجود ٹرانسسٹر کاسائز 10 نینو میٹر ہے۔ آج کل بنائے جانے والے بیشتر اسمارٹ فون میں جو پروسیسر استعمال کیا جاتا ہے اسے 16 یا 14 نینو میٹر پروسس پر بنایا جاتا ہے۔ کوالکوم کا معروف پروسیسر اسنیپ ڈریگن 820 بھی 14 نینو میٹر ٹیکنالوجی پر بنایا گیا ہے۔

سام سنگ کا کہنا ہے کہ مذکورہ 8 گیگا بائٹس ریم ماڈیول 4266 میگا بٹس فی سیکنڈ کی رفتار سے ڈیٹا منتقل کرسکتا ہے۔ یہ کمپیوٹر میں استعمال ہونے والی DDR4 میموری سے دو گنا زیادہ رفتار ہے۔ سام سنگ کا دعویٰ ہے کہ اس نئے ماڈیول کی بدولت ٹیبلٹ اور اسمارٹ فون4K ریزولوشن ویڈیو کو زیادہ بہتر انداز میں چلا سکیں گے۔ کمپنی کی تیار کردہ گزشتہ چپ کی گنجائش 4 گیگا بائٹس تھی جسے 20 نینو میٹر پروسس پر بنایا گیا تھا۔ نئی چپ گزشتہ چپ جتنی ہی توانائی خرچ کرتی ہے لیکن اس کی گنجائش دو گنی ہے۔ سام سنگ نے ابھی یہ نہیں بتایا کہ اس نئی ڈی ریم کو اسمارٹ فون بنانے والے اداروں کو کب فراہم کیا جائےگا۔

حال ہی آنےو الی رپورٹس سے پتا چلا ہے کہ کوالکوم نے اسنیپ ڈریگن 830 پروسیسر کی تیاری سام سنگ کے بجائے کسی دوسری کمپنی سے کروانے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ بات اگر سچ ثابت ہوئی تو یہ سام سنگ کی مشکلات میں مزید اضافہ کرسکتی ہے جبکہ سام سنگ کی شہرت کو پہنچنے والے نقصان کو یہ دو چند بھی کرے گی۔ رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ کوالکوم ممکنہ طور پر سام سنگ کی حریف کمپنی تائیوان سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ کمپنی (TSMC)سے پروسیسر بنوانے کا ارادہ رکھتا ہے کیونکہ سام سنگ اس کے شیڈول کے مطابق چپس کی تیاری نہیں کرسکتا۔

یہ تحریر کمپیوٹنگ شمارہ نمبر 123 میں شائع ہوئی

error: اس ویب سائٹ پر شائع شدہ تمام مواد کے قانونی حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں