اردو زبان میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کا مستند جریدہ

روبوٹس اور مصنوعی ذہانت کا عروج، 7 کروڑ افراد بے روزگار ہوں گے

514

بہت جلد دنیا پھر روبوٹس اور مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) کا راج ہوگا اور اگلے چند سالوں میں ہی دنیا بھر میں کروڑوں انسانوں کو یا تو نئے شعبوں کا رخ کرنا پڑے گا، نئی مہارت حاصل کرنا ہوگی یا پھر بے روزگاری کا منہ دیکھنا ہوگا۔

میک کنسی نامی ادارے کی تحقیق کے مطابق روبوٹس 2030ء تک، یعنی صرف 13 سالوں میں 7 کروڑ افراد کا کام ہتھیا لیں گے۔

ویسے تو مصنوعی ذہانت میں ترقی کی رفتار کافی تیز ہے لیکن معمولی اندازہ بھی لگائے جائے تو پونے 4 کروڑ افراد ایسے ضرور ہوں گے جو ایک نئی دنیا میں اپنی ملازمت سے محروم ہو جائیں گے، یعنی دنیا بھر میں کام کرنے والے کل افراد کا 14 فیصد۔

البتہ میک کنسی کا ماننا ہے کہ کام کرنے والوں کی طلب میں کوئی کمی واقع نہ ہوگی البتہ کام کی نوعیت ضرور بدل جائے گی کیونکہ مشینوں کے عقل مند ہونے کی وجہ سے ملازمین کو زیادہ ماہر ہونا پڑے گا۔

مثلاً وہ کام جن میں فرد کا فرد سے رابطہ ضروری ہوتا ہے، جیسا کہ مینیجرز اور اساتذہ، مستقبلِ قریب میں اُن کی جگہ لینا تو مشکل ہوگا لیکن ڈیٹا کا تجزیہ کرنے والے اور روز مرہ امور نمٹانے والوں کا کیریئر خطرے کی زد میں ہوگا جیسا کا اکاؤنٹنٹس وغیرہ۔

تجزیہ کاروں کا اندازہ ہے کہ 5 فیصد سے بھی کم کام ایسے ہوں گے جنہیں اس عرصے میں مکمل خودکار کیا جائے گا لیکن ایسے کاموں کی تعداد بہت زیادہ ہوگی جن کا قابل ذکر حصہ مشین کے ہاتھوں انجام پائے گا۔

آج تک ٹیکنالوجی دنیا میں جتنے بھی انقلاب آئے ہیں، کسی نے بے روزگاری میں مستقل اور طویل مدتی اضافہ نہیں کیا، بلکہ نئی جدّتوں نے مختلف شعبوں میں نئی ملازمتیں تخلیق کی ہیں۔ تو کیا اس نئے ‘انقلاب’ کے بعد انسان بغاوت کردے گا؟

تبصرے
لوڈنگ۔۔۔۔
error: اس ویب سائٹ پر شائع شدہ تمام مواد کے قانونی حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں