اردو زبان میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کا مستند جریدہ

خلا سے آنے والے باردار ذرات بھی کمپیوٹر کو کریش کر سکتے ہیں

69

آپ یہ جان کر حیران ہونگے کہ باردار (charged) ذرات جو خلا سے زمین پر آتے ہیں اُن کی وجہ سے اسمارٹ فونز، کمپیوٹرز اور دوسرے برقی آلات کریش بھی کر سکتے ہیں۔ یہ ذرات کائناتی شعاعوں (کاسمک ریز )جو کائنات کے دور دراز حصے سے آتی ہیں، کے زمینی فضا سے ٹکرانے سے پیدا ہوتے ہیں۔ یہ بار دار ذرات زمین پر موجود زندگی کے لئے خطرناک نہیں ہیں لیکن وہ برقی آلات اور خاص طور پر انٹیگریٹڈ سرکٹس کے لئے خطرناک ہیں۔ یہ ذرات آپ کے پاس موجود ہارڈڈسک میں محفوظ کسی بٹ کی قدر (ویلیو) بھی تبدیل کرسکتے ہیں۔
اگر آپ کا کمپیوٹر بار بار کریش ہو کربلیو سکرین آف ڈیتھ ظاہر کرے تو آپ کیا کریں گے؟ بیشتر لوگ مائیکروسافٹ کے آپریٹنگ سسٹم کو الزام دیں گے ۔ اسی طرح اسمارٹ فون ہینگ ہو جائیں تو آپ اسمارٹ فون بنانے والی کمپنی کو موردِ الزام ٹھہرائیں گے۔ لیکن ان کریشز کی ایک غیر متوقع وجہ بھی ہو سکتی ہے۔

 

ڈاکٹر بھرت بھوا (Bharat Bhuva ) جو وندر بلٹ یونیورسٹی میں الیکٹریکل انجینئرنگ کے پروفیسر ہیں، ان کی تحقیق کے مطابق ہمارے نظام شمسی سے باہر سے آنے والی بار دار ذرات ہماری ڈیوائسز کو کریش کرنے کا باعث بن سکتے ہیں۔ بھرت بھوا کا کہنا ہے کہ یہ بار دار ذرات جن کی کچھ مقدار سورج سے زمین کی سطح پر پہنچتی ہے اور بیشتر ذرات کائناتی شعاعوں کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں، برقی آلات کے لئے ایک بے حد سنجیدہ مسئلہ ہیں لیکن عام عوام اس مسئلے سے لاعلم ہے۔

اپنے مقالے میں بھرت بھوا نے اس مظہر کی وضاحت کرتے ہوئے کہا بتایا کہ کاسمک ریز جب تقریباً روشنی کی رفتار سے سفر کرتے ہوئے ہمارے سیارے کی فضا سے ٹکراتی ہیں تو اس سے ذیلی ایٹمی ذرات بنتے ہیں۔ان ذرات کے انسانی زندگی پر خطرناک اثرات نہیں ہوتے لیکن وہ اتنی توانائی رکھتے ہیں کہ برقی آلات خراب ہو جائیں۔ یہ ذرات مائیکرو الیکٹرونک سرکٹ میں مداخلت (interference ) کرکے چپ میں محفوظ ڈیٹا بٹ کو تبدیل کردیتے ہیں۔ اسے سنگل ایونٹ اپ سیٹ یا CEU کہا جاتا ہے۔

بھرت بھوا نے جن ایس ای یو کے مظہر کے بارے میں بتایا ہے وہ ماضی میں کئی بار ہو چکے ہیں۔ 2008ء میں Qantas ائیر لائن کی سنگا پور سے پرتھ جانے والی پرواز صرف 23 سیکنڈ میں 690 فٹ نیچے آگئی تھی۔ 2003 ء میں بیلجیم میں ایک برقی ووٹنگ مشین نے ایک مخصوص امیدوار کے لیے 4096 اضافی ووٹ کاسٹ کر دئیے تھے۔

پروفیسر بھرت بھوا اپنی یونی ورسٹی کے ریڈی ایشن ایفکٹس ریسرچ گروپ کا ممبر ہے۔ یہ برقی آلات میں تابکاری کے اثرات پر تحقیق کرنے والا سب سے بڑا تعلیمی پروگرام ہے۔گروپ کی حالیہ تحقیق کو اے ایم ڈی، اے آر ایم، براڈ کام، سسکو، میڈیا ٹیک اور کوالکوم جیسی بڑی کمپنیوں نے اسپانسر کیا تھا۔اس گروپ نے اپنی تحقیق میں پایا کہ 28، 20 اور 16 نینو میٹر پراسس پر تیار کی گئی چپس پر تابکاری کے ایک جیسے ہی اثرات ہوتے ہیں۔ انجینئروں کے مطابق یہ انڈسٹری اور انجینئروں کےلیے ایک بڑی مشکل ہے مگر عام عوام کو اس کےلیے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔

نوٹ: یہ تحریر کمپیوٹنگ شمارہ 126 میں شائع ہوئی

اگر آپ یہ اور اس جیسی درجنوں معلوماتی تحاریر پڑھنا چاہتے ہیں تو گھر بیٹھے کمپیوٹنگ کا تازہ شمارہ حاصل کریں۔

تبصرے
لوڈنگ۔۔۔۔
error: اس ویب سائٹ پر شائع شدہ تمام مواد کے قانونی حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں