معاشرے پر منفی اثرات، فیس بک سب سے آگے

537

وال مارٹ اور میک ڈونلڈز کے معاشرے پر منفی اثرات ضرور ہوں گے، لیکن امریکی باشندوں سے کیے گئے ایک سروے میں فیس بک ان دونوں کو پیچھے چھوڑتا ہوا نظر آ رہا ہے۔

ریسرچ کمپنی اونسٹ ڈیٹا (Honest Data) کی جانب سے کیے گئے سروے میں لوگوں سے ان اداروں کے بارے میں پوچھا گيا، جو ان کے خیال میں معاشرے پر منفی اثرات مرتب کر رہے ہیں۔ اداروں میں مارلبورو، وال مارٹ، فیس بک، میک ڈونلڈز اور کوکا کولا شامل تھے۔

فیس بک جواب دینے والے 27 فیصد افراد کی فہرست میں شامل تھا اور مارلبورو کے بعد دوسرے نمبر پر گیا، جو 43 فیصد کے خیال میں معاشرے پر منفی اثرات رکھتا ہے۔ میک ڈونلڈز اور وال مارٹ بالترتیب 21 اور 18 فیصد افراد کے خیال میں اجتماعی طور پر منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔ 36 فیصد افراد نے ان میں سے کسی نام کا انتخاب نہیں کیا۔

اونسٹ ڈیٹا کے بانی ٹیوس میک جن نے کہا کہ "یہ نتائج ہرگز حیران کن نہیں ہیں، کیونکہ حالیہ چند ماہ میں میڈیا پر فیس بک صرف منفی خبروں کے حوالے سے ہی رہا ہے۔”

سماجی حلقوں میں صارفین کی نفسیاتی بہبود پر فیس بک کے طویل المیعاد اثرات پر سوالات اٹھانا شروع ہوگئے ہیں۔ مختلف سائنسی تحقیق میں پایا گیا ہے کہ سوشل میڈیا کا بہت زیادہ استعمال صارفین میں ذہنی تناؤ، اضطراب اور خودکشی کی جانب میلان کا سبب بنتا ہے۔ گو کہ ان کا براہ راست سبب ہو سکتا ہے کہ سوشل میڈیا نہ ہو، لیکن وہ منفی احساسات کو پروان چڑھانے میں ایک اہم عنصر ضرور ہے۔

ایک دوسرے سروے میں عوام سے پوچھا گیا تھا کہ کون سی ٹیکنالوجی کمپنیاں ان کے خیال میں معاشرے پر منفی اثرات مرتب کر رہی ہیں تو فیس بک زیادہ تر کا پہلا جواب تھا جس کے بعد ٹوئٹر، گوگل، نیٹ فلکس اور لنکڈ اِن کے نام آئے۔

لگتا ہے کہ کچھ کچھ فیس بک بھی سمجھتا ہے کہ اس کا نیٹ ورک عوام کے ذہنوں پر کیا اثرات ڈال سکتا ہے، اس لیے ادارے نے حال ہی میں اپنی نیوزفیڈ میں کچھ انقلابی تبدیلیاں کی ہیں۔

تبصرے
لوڈنگ۔۔۔۔
error: اس ویب سائٹ پر شائع شدہ تمام مواد کے قانونی حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں