اردو زبان میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کا مستند جریدہ

دنیا کو سائبر اٹیک سے بچانے والا ہیرو ہیکر گرفتار کر لیا گیا

549

وانا کرائی جیسے وسیع سائبر اٹیک کو روکنے والے کمپیوٹر سکیوریٹی ریسرچر کو بینکاری نظام ہیک کرنے والا مال ویئر بنانے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔

کچھ ہی دن پہلے مارکس ہٹچنس کا نام ایک ہیرو ہیکر کے طور پر سامنے آیا تھا جب انھوں نے بدنام زمانہ رینسم ویئر وانا کرائی کا توڑ نکالتے ہوئے اسے ناکارہ بنا دیا تھا۔

مارکس ہٹچنس (Marcus Hutchins) جو مال ویئر ٹیک عرفیت کے تحت بلاگنگ کرتے ہیں، بدھ کو لاس ویگاس سے گرفتار کئے گئے ہیں۔ امریکہ کے محکمہ انصاف نے منگل کو ایک بیان جاری کیا جس میں بتایا گیا ہے کہ ان کے اوپر جولائی میں کرونوس (Kronos) بینکاری ٹروجن کو بنانے اور پھیلانے سے متعلق سائبر جرائم کے الزامات ہیں۔

غور طلب ہے کہ 22 سالہ مارکس نے خود ہی کمپیوٹر سیکوریٹی کے اسرار و رموز سیکھے ہیں۔ انہوں نے کہیں سے روایتی ٹریننگ نہیں لی ہے۔

کرونوس جو کہ ایک خطرناک بینکاری مال ویئر ہے 2014 میں کمپیوٹر سکیوریٹی کے حلقوں میں موضوع گفتگو بنا۔ اس کے پیچھے کچھ روسی ہیکرز بھی موجود تھے لیکن امریکی سکیوریٹی کے اداروں نے اس میں مارکس کو بھی ملوث پایا تھا۔

اس وقت کچھ لیگل ایڈوائزری ادارے مارکس کی مدد کے لیے بھی میدان میں آچکے ہیں۔ ایسے ہی ایک گروپ کی ترجمان نے کہا کہ وہ مارکس ہٹچنس کی گرفتاری سے فکر مند ہے. وہ ایک جانے مانے سکیوریٹی رسرچر ہیں جنہیں وانا کرائی رینسم ویئر کو روکنے کے لئے جانا جاتا ہے. ہم ہٹچنس تک پہنچ کر اس معاملے کو حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

مئی میں، وانا کرائی نام کا رینسم ویئر بڑی سطح پر 150 ممالک کے قریب 3 لاکھ كمپيوٹرو تک پہنچ گیا تھا جہاں ڈیٹا ایکسس بلاک کر بٹ کوائنز سے تاوان طلب کیا گیا تھا۔ برطانیہ کی نیشنل ہیلتھ سروس، فیڈ ایكس کارپوریشن، نسان موٹرز کمپنی جیسے بڑے ادارے اس سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے تھے. اس عالمی سائبر اٹیك میں یورپ کی کمپنیوں کو بھی بھاری نقصان پہنچا تھا۔

your-personal-files-are-encrypted

بٹ کوائنز کے ذریعے کاروبارہ کرنے والی ڈارک ویب کی اہم ویب سائٹ الفا بے بھی چند دن پہلے امریکی ادارے بند کر چکے ہیں۔ یہی نہیں بٹ کوائن کے حوالے سے ایک انتہائی بڑی ویب سائٹ btc-e بھی چند دن پہلے ہی امریکی ادارے معطل کرنے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔

ایک جانی مانی سکیوریٹی فرم Rendition Infosec سے تعلق رکھنے والے ریسرچر جیک ویلیمز نے اس موقع پر بتایا کہ وہ 2013 سے ہٹچنس سے واقف ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہٹچنس نے 2014 میں ایک تعلیمی پروجیکٹ پر ان کے ساتھ کام کرتے ہوئے اس کا معاوضہ وصول کرنے سے بھی انکار کر دیا تھا۔ حتیٰ کہ ایک سکیوریٹی فرم ’’ہیکر ون‘‘ Hackerone نے وانا کرائی رینسم ویئر کا سدباب کرنے پر انھیں بگ باؤنٹی کے عوض 10,000 امریکی ڈالر کی رقم بطور انعام دی تو وہ رقم بھی ہٹچنس نے فلاحی کاموں کے لیے عطیہ کر دی تھی۔

اس وقت ہٹچنس امریکی سکیوریٹی اداروں کی تحویل میں ہیں اور فی الحال امریکی ادارہ انصاف اور نہ ہی ایف بی آئی اس حوالے سے مزید کوئی اطلاع جاری کر رہی ہے۔

تبصرے
لوڈنگ۔۔۔۔
error: اس ویب سائٹ پر شائع شدہ تمام مواد کے قانونی حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں