اردو زبان میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کا مستند جریدہ

کیا یوٹیوب بچوں کے لیے محفوظ ہے؟

659

دنیا کی سب سے بڑی وڈیو شیئرنگ ویب سائٹ یوٹیوب کا کہنا ہے کہ وہ بچوں کے لیے محفوظ تر بننے کی کوشش کررہی ہے۔

حال ہی میں یوٹیوب کو سخت تنقید کا نشانہ بننا پڑا ہے کیونکہ سائٹ پر بچوں کو ہدف بنا کر ایسا گھٹیا اور پریشان کن مواد پیش کیا گیا ہے جس کے خلاف ادارے نے بھی قابل ذکر اقدامات نہیں اٹھائے۔ لیکن گوگل کے اس ذیلی ادارے نے اب اعلان کیا ہے کہ وہ خاندان بھر کے لیے مناسب مواد فراہم کرنے کے لیے پانچ نکاتی منصوبہ جاری کر رہا ہے۔

جو رہنما ہدایات جاری کی گئی ہیں، وہ کچھ یوں ہیں:

  • کمیونٹی گائیڈلائنز کا سخت اطلاق اور ٹیکنالوجی کے ذریعے تیز تر نفاذ
  • بچوں کو ہدف بنانے والی نامناسب وڈیوز سے اشتہارات کا اخراج
  • بچوں کے لیے بنائی گئی وڈیوز پر سے نامناسب تبصروں کو ہٹانا
  • خاندان بھر کے لیے کونٹینٹ بنانے والوں کو رہنمائی کی فراہمی
  • ماہرین سے رابطہ اور اُن سے سیکھنا

یہ منصوبہ رواں ماہ کے اوائل میں اُن خبروں کے بعد سامنے آیا ہے جن میں یوٹیوب کے الگورتھمز اور اسکریننگ پالیسیوں میں خامیوں کی نشاندہی کی گئی تھی۔ یہ تنازع ‘یوٹیوب کڈز‘ سے پیدا ہوا، جسے وڈیو سائٹ کے بچوں کے لیے ورژن کے طور پر تیار کیا گیا ہے۔ لیکن اس کے فلٹرز ایسی وڈیوز کو نکالنے میں ناکام رہے ہیں، جن میں بچوں کے لیے انتہائی گھٹیا مواد موجود ہے۔ صرف دو مثالیں ظاہر کرنے کے لیے کافی ہیں، ایک وڈیو میں مکی ماؤس خون سے بھرے تالاب میں نہا رہا ہے جبکہ کئی تو ناقابل بیان ہیں۔ ایک جھلک اس تصویر میں دیکھ سکتے ہیں:

تحریر جاری ہے۔ یہ بھی پڑھیں

یہی نہیں بلکہ ایسی وڈیوز، جو اچھی ہیں، ان پر انتہائی نامناسب تبصرے بھی دیکھے گئے ہیں یہاں تک کہ بچوں کی ورزش جیسی عام وڈیوز پر بھی واہیات تبصرے کیے گئے ہیں، جن سے یوٹیوب پر مجبور ہوا ہے کہ وہ نئی ہدایات جاری کرے اور سخت اقدامات اٹھائے۔

یہ نئی ہدایات اس وقت سامنے آئی ہیں جب یوٹیوب کے مالک گوگل سمیت مختلف انٹرنیٹ ادارے امریکی کانگریس کی سخت تنقید میں گھرے ہوئے ہیں۔ گزشتہ سال امریکا کے صدارتی انتخابات میں روسی ہیکرز کی کارروائیوں اور ان میں گوگل، فیس بک اور ٹوئٹر کے استعمال سے حکومت برافروختہ ہے۔ پھر سب سے اہم کہ یہ ادارے اربوں افراد پر اثر و رسوخ رکھتے ہیں اور امریکا یہ نہیں چاہے گا کہ انہیں کھلی چھوٹ دی جائے۔ اس لیے انہوں نے ان ٹیکنالوجی کمپنیوں کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

بہرحال، کونٹینٹ پر نظر رکھنا یوٹیوب کے لیے نیا کام نہیں۔ ابھی حال ہی میں گوگل نے کہا تھا کہ وہ آن لائن شدت پسندی کے خلاف کارروائی میں دہشت گردوں کی وڈیوز پر کریک ڈاؤن کر رہا ہے۔

شدت پسندوں کی یہ وڈیو یوٹیوب کو پہلے ہی مسائل سے دوچار کر چکی ہیں یہاں تک کہ رواں سال کے اوائل میں اشتہار دینے والے کئی اداروں نے یوٹیوب کا بائیکاٹ کردیا تھا کیونکہ ان کے اشتہار نفرت آمیز اور شدت پسندانہ مواد کے ساتھ نظر آ رہے تھے۔ اس لیے اے ٹی اینڈ ٹی اور جانسن اینڈ جانسن جیسے بڑے اداروں سمیت کئی کمپنیوں نے اشتہارات کے لیے یوٹیوب کا استعمال بند کردیا تھا، البتہ یوٹیوب کا کہنا ہے کہ اب بائیکاٹ کرنے والے بیشتر ادارے واپس آ چکے ہیں۔

ویسے یہ معاملہ امریکا میں کھلا ہے تو سب کو اخلاقیات یاد آ رہی ہے ورنہ پاکستان میں یوٹیوب کا جیسا استحصال ہوا ہے، شاید ہی کہیں ہوا ہو، آپ خود دیکھ لیں۔

تبصرے
لوڈنگ۔۔۔۔
error: اس ویب سائٹ پر شائع شدہ تمام مواد کے قانونی حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں