اردو زبان میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کا مستند جریدہ

‘جیلیز’ بچوں کے لیے یوٹیوب کا بہترین متبادل

1,833

دنیا کا سب سے بڑا وڈیو پورٹل یوٹیوب اس وقت کئی تنازعات میں گھرا ہوا ہے۔ بچوں کے لیے نامناسب مواد، ان کی وڈیوز پر گھٹیا تبصروں کی بھرمار، سرچ کرتے ہوئے معیوب تجاویز اور بہت کچھ، عین اس وقت ایک نئی ایپ منظر عام پر آ رہی ہے جس کا دعویٰ ہے کہ وہ بچوں کے لیے وڈیوز کا محفوظ اور بہترین طریقہ پیش کرتی ہے۔

Jellies نامی یہ ایپ کین یرموش نے بنائی ہے جو سالوں سے موبائل ایپس بنانے والے ادارے ایپ سیوی کے مالک ہیں۔ ایک والد کی حیثیت سے یرموش بھی یوٹیوب کے مسائل سے پریشان تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ “میرا بڑا بیٹا اس وقت ساڑھے پانچ سال کا ہے، جب وہ دو تین سال کا تھا تو اسے عام بچوں کی طرح وڈیوز دیکھنا بہت پسند تھا۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ یوٹیوب بچوں کے لیے ہے ہی نہیں کیونکہ اس میں اشتہارات ہوتے ہیں اور بچے کی توجہ اس طرف مبذول ہو سکتی ہے جو نہیں ہونی چاہیے۔ جب ‘یوٹیوب کڈز‘ آیا تو میں سمجھا کہ اب مسئلہ حل ہو گیا ہے اور میں نے جیلیز کا منصوبہ ترک کردیا۔ لیکن جلد ہی اندازہ ہوگا کہ یہ یوٹیوب کڈز بھی کام نہیں کر رہا۔ بچوں کو کھلونوں کے ڈبے کھولنے اور ‘ایگ سرپرائز’ وڈیوز دیکھنے کی لت لگ گئی اور یوں کھلونوں کی فرمائش اور ضدوں کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوگا۔”

یرموش کے خیال میں اس پورے مسئلے کا واحد حل یہی ہے کہ وڈیو مواد پر انفرادی سطح پر نگاہ رکھی جائے اور ان وڈیوز پر توجہ دی جائے جو بچے کو دنیا کھوجنے پر مجبور کریں، بجائے اس کے کہ وہ کسی سرمایہ دار کے ہتھے چڑھیں جو اپنی مصنوعات کی تشہیر کرے اور بچوں میں غلط عادات کو فروغ دے۔

جیلیز میں نہ ہی اشتہارات ہوں گے، نہ ہی کھلونوں کی اَن باکسنگ کی وڈیوز بلکہ وہ “مشہور” آن لائن اسٹارز بھی نہیں، جنہوں نے بچوں کا دماغ خراب کرنے میں بہت بڑا کردار ادا کیا ہے۔

ادارے کا کہنا ہے کہ اس نے کمانے کے لیے سبسکرپشن ماڈل کو اختیار کیا ہے، جس میں وڈیو کلیکشن تک رسائی کے لیے ماہانہ 4.99 ڈالرز ادا کرنا ہوں گے۔ اس میں ہفتہ وار بنیادوں پر نئی وڈیو پلے لسٹس کی شمولیت بھی شامل ہے۔

اس وقت جیلیز کے پاس 100 سے زیادہ موضوعات پر 3 ہزار سے زیادہ ایسی وڈیوز ہیں جنہیں بچوں کے لیے انتہائی معیاری کہا جا سکتا ہے کیونکہ انہیں غور و خوض کے بعد منتخب کیا گیا ہے۔ ہر ہفتے ان میں چار سے پانچ وڈیوز کا اضافہ بھی کیا جاتا ہے۔

ایپ کے اندر “پیرنٹس ماڈل” کا آپشن بھی ہے جس کی مدد سے والدین اپنے بچے کے پسندیدہ موضوع کو ایپ میں شامل کر سکتے ہیں جیسا کہ ٹرین، ہوائی جہاز، جانور وغیرہ۔ اس کے علاوہ وہ حروف تہجی اور اشکال جیسے تعلیمی مواد بھی شامل کر سکتے ہیں۔ وہ ایسے موضوعات کو نکال بھی سکتے ہیں جس پر وہ اپنے بچوں کو کچھ نہیں دکھانا چاہتے۔

بچے ایپ کو خصوصی “کڈز موڈ” میں استعمال کریں گے ۔ یہاں موضوعات اور وڈیوز کو دیکھنے میں انہیں اتنی “کھلی آزادی” ملتی ہے کہ انہیں محسوس ہی نہیں ہوتا کہ وہ صرف والدین کی منظور شدہ وڈیوز ہی دیکھ رہے ہیں۔

بلاشبہ سالوں تک یوٹیوب دیکھنے کے بعد بچوں کو اس سے ہٹانا ایک مشکل کام ہوگا لیکن کم از کم چھوٹے بچوں کے لیے اتنی مشکل کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ کیونکہ جیلیز صرف اسکول جانے والے ہی نہیں، بلکہ ابھی اسکول کی عمر کو نہ پہنچنے والے بچوں کے لیے بھی ہے ۔

جیلیز اس وقت محض ایپل ایپ اسٹور پر دستیاب ہے، جہاں ڈاؤن لوڈ کے لیے مفت ہے اور سبسکرپشن ایپ کے اندر خریدی جا سکتی ہے۔

تبصرے
لوڈنگ۔۔۔۔
error: اس ویب سائٹ پر شائع شدہ تمام مواد کے قانونی حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں