جرائم سے حاصل کردہ 4 ارب پاؤنڈز کا کالا دھن سفید کیا گیا

675

یورپ میں جرائم سے حاصل کردہ تین سے چار ارب پاؤنڈز کرپٹو کرنسی کے ذریعے سفید دھن میں تبدیل کیے گئے ہیں۔ یہ انکشاف یوروپول ایجنسی کے ڈائریکٹر روب وین رائٹ نے ایک تازہ انٹرویو میں کیا ہے جن کا کہنا ہے کہ حکومتوں اور صنعت سے وابستہ افراد کو اس مسئلے کے حل کے لیے مل کر کام کرنا ہوگا۔

ایک ایسے وقت میں جب بٹ کوائن پہلے ہی اپنی نصف سے زیادہ قیمت گنوا چکا ہے اور دسمبر میں عروج پر پہنچنے کے بعد مسلسل زوال پذیر ہے، یہ بیان کرپٹوکرنسی کے لیے تباہ کن ہو سکتا ہے کیونکہ اس کے نتیجے میں قانون نافذ کرنے والے ادارے مزید چوکس ہو سکتے ہیں اور ممکن ہے کہ کوئی نیا قانون وضع کرکے کرپٹوکرنسی کو ضابطے میں لانے کی کوشش کی جائے۔

یورپی یونین میں قانون کے نفاذ کے لیے باہمی تعاون کے ادارے یوروپول کے ڈائریکٹر کا کہنا تھا کہ کا ایک اندازے کے مطابق یورپ میں 100 ارب ڈالرز کی غیر قانونی آمدنی کا 3 سے 4 فیصد کرپٹو کرنسیوں کے ذریعے سفید دھن میں تبدیل کیا گیا ہے۔ "یہ کام بہت تیزی سے بڑھ رہا ہے اور ہم اس پر بہت پریشان ہیں۔”

اس وقت مارکیٹ میں بٹ کوائن کے علاوہ بھی بہت سی قسم کی ڈجیٹل کرنسیاں موجود ہیں، جو روایتی کرنسیوں کے مقابلے میں کسی حکومت یا روایتی بینک کی جانب سے پرنٹ نہیں کی جاتیں اور نہ ہی ان کی اس طرح نگرانی کی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مجرموں کے لیے یہ کافی پرکشش ہیں کیونکہ پولیس کے لیے اس کو ٹریک کرنا کافی مشکل ہے ۔ وین رائٹ کے مطابق اگر معلوم ہو بھی جائے تو عام بینکاری نظام کی طرح مجرموں کے اثاثے منجمد نہیں کیے جا سکتے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یورپ میں جرائم پیشہ افراد اپنی غیر قانونی سرگرمیوں سے حاصل ہونے والی آمدنی سے بٹ کوائن خرید رہے ہیں اور انہیں چھوٹے چھوٹے حصوں میں تقسیم کرکے ایسے افراد کو دے رہے ہیں جن کا جرائم سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ افراد ان بٹ کوائنز کو نقدی میں تبدیل کرکے واپس مجرموں کو دے رہے ہیں اور یوں کالے دھن کو سفید کرنے کا کام کیا جا رہا ہے۔

تبصرے
لوڈنگ۔۔۔۔
error: اس ویب سائٹ پر شائع شدہ تمام مواد کے قانونی حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں