اردو زبان میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کا مستند جریدہ

اس وقت بہترین اسمارٹ فونز کون سے؟

1,963

ہر گزرتے سال کے ساتھ اسمارٹ فونز بہتر سے بہترین ہوتے جا رہے ہیں۔ 2017ء بھی ایسے ہی متاثر کون اسمارٹ فونز کا سال تھا اور اب تو عام صارفین کے لیے کسی نئے فون کا انتخاب ہی بہت مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ رواں سال اب تک جو فونز جاری کیے گئے ہیں ان کے تجزیے کے بعد بھی یہ کہنا مشکل ہے کہ سب سے اچھا فون کون سا ہے اور سب کو وہی لینا چاہیے۔ لیکن اگر استعمال کے حساب سے دیکھیں تو شاید فیصلہ کرنا آسان ہو جائے کیونکہ ہر صارف کسی خاص پہلو کو ترجیح دیتا ہے۔ کسی کے لیے اسکرین کا بہترین ہونا ضروری ہے، کوئي کیمرے کا دلدادہ ہے تو کسی کے لیے بیٹری لائف زندگی اور موت کا مسئلہ بنی رہتی ہے۔ اس لیے ہم ان پہلوؤں سے سال 2017ء کے فونز کا جائزہ لیں گے لیکن یاد رکھیں کہ بہتر سے بہترین کی تلاش ہمیشہ مہنگی ہوتی ہے۔ ذیل جس فون کا بھی ذکر ہوگا وہ 60 ہزار روپے سے کم کا نہیں ہوگا کیونکہ ہدف “بہترین کی تلاش” ہے، اس لیے قیمت فی الحال موضوع نہیں۔

اگر عام طور پر یہ سوال کیا جائے تو سب سے بہتر فون کی بحث میں دو نام سب سے پہلے آئیں گے، آئی فون8 یا سام سنگ گلیکسی ایس8 کیونکہ اس دوڑ میں شامل لوگوں کی زیادہ تر نظر انتخاب ان میں سے کسی ایک پر پڑتی ہے۔

ان میں سے گلیکسی ایس8 بظاہر زیادہ پرکشش ڈیوائس ہے۔ اس کا 5.8 انچ کا انفینٹی ڈسپلے اور اس کی خوبصورتی سے تراشی گئی واٹر ریزسٹنٹ باڈی سب کی توجہ اپنی جانب مبذول کرواتی ہے۔ پھر یہ خاصا طاقتور بھی ہے، اسنیپ ڈریگن 835 چپ سیٹ کے ساتھ۔ جو خصوصیات حریف اداروں کے فونز میں ختم ہو چکی ہیں وہ بھی اس میں بدستور موجود ہیں جیسا کہ ہیڈ فون جیک۔ گو کہ گوگل پکسل کا کیمرا جاندار ہے لیکن ایس8 کا 12 میگاپکسل کا سینسر بھی کسی سے کم نہیں ہے۔ اس لیے بات ڈیزائن، کارکردگی اور خصوصیات کی ہو تو گلیکسی ایس8 کو شکست دینا کافی مشکل کام ہے۔پھر اگر اسکرین اور پیسے کی گنجائش اور بھی بنتی ہے تو آپ اور بڑا گلیکسی ایس8 پلس لے سکتے ہیں۔ یہ تقریباً اپنے ‘چھوٹے بھائی’جیسا ہی ہے لیکن اس کی 6 انچ کی اسکرین کمال ہے اور بیٹری لائف بھی جاندار۔

پھر آئی فون کے شیدائیوں کے لیے آئی فون8 سیریز ہے۔ اس کے دونوں فونز میں ہے طاقتور اے11 بایونک چپ سیٹ اور پھر ساتھ ہی ایپل کی چمکتی دمکتی دنیا کی ایپس بھی۔ آئی فون8 پلس ان لوگوں کے مزاج کے عین مطابق ہے جو بڑا فون رکھنا پسند نہیں کرتے۔ پھر اس کے کچھ فائدے اور بھی ہیں، یہ زیادہ بڑی بیٹری رکھتا ہے یعنی بار بار چارج کرنے کا جھنجھٹ اس میں کم ہوگا۔ اس کا 12 میگا پکسل کا ڈوئیل کیمرا بھی آئی فون8 کے سنگل سینسر سے زیادہ اچھا ہے۔ گو کہ کیمرے کے معاملے میں اب بھی پہلی پسند گوگل کا پکسل2 ہی ہوگی لیکن 8 پلس کا کیمرا بھی بہت اچھا ہے۔

سام سنگ اور ایپل نے رواں سال بہت متاثر کن کارکردگی دکھائی ہے اور آپ ان میں سے کوئی بھی اسمارٹ فونز خرید کر مایوس نہیں ہوں گے بلکہ اس سال تو دونوں طرف ‘ہجرت’ کرنے والے بھی خوش دکھائی دیے یعنی جس نے آئی فون چھوڑ کر سام سنگ کو اپنایا وہ بھی اور جس نے اینڈرائیڈ کی دنیا سے آئی او ایس کی جانب ہجرت کی وہ بھی۔ بس اپنے اپنے مزاج کی بات ہے!

اگر آپ کی سب سے زيادہ توجہ بڑی، روشن اور خوبصورت اسکرین پر جاتی ہے تو آپ کا پہلا انتخاب سام سنگ گلیکسی نوٹ8 ہونا چاہیے۔ 6.3 انچ کے ساتھ یہ مارکیٹ میں موجود نئے فونز کی سب سے بڑی اسکرین ہے لیکن بڑا ہونے کے باوجود اسے ایک ہاتھ سے پکڑنا اور سنبھالنا بہت آسان ہے۔ پھر اس کے ساتھ ‘ایس پین’ بھی ہے جس کی بدولت گلیکسی نوٹ8 پر کام کرنا بہت آسان ہو جاتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ بڑے فونز میں اسے شکست دینا بہت مشکل ہے۔

اسمارٹ فون استعمال کرنے والے زیادہ تر صارفین موسیقی بھی سنتے ہیں لیکن چند ہی ادارے ہیں چو اسمارٹ فون آڈیو کو بہت سنجیدہ لیتے ہیں۔ ایل جی نے اپنے نئے فون ‘وی 30’ میں بہترین آڈیو معیار کو ترجیح بنایا ہے۔ اس کے واحد اسپیکر سے آنے والی آواز تو عام سی ہی ہوتی ہے لیکن ذرا اس میں ہیڈفون لگائیں اور پھر مزے دیکھیں۔ ایسا لگتا ہے آپ کے سامنے براہ راست موسیقی چل رہی ہے۔ پھر یہ وڈیو شوٹنگ میں بھی کمال کا فون ہے۔

پکسل 2 ایکس ایل ہو یا چھوٹا پکسل2، گوگل کے ان فونز میں 12.2 میگا پکسل کا وہی جاندار کیمرا ہے جسے ہم سال کے بہترین اسمارٹ فون کیمرا قرار دے رہے ہیں۔ سینسر کے علاوہ گوگل نے ایچ ڈی آر+ موڈ بنانے کے لیے کافی کمپیوٹیشنل پاور بھی استعمال کی ہے، جس کا نتیجہ آتا ہے بہترین رنگ، بہت تفصیل اور وسیع رینج، وہاں بھی جہاں روشنی کم ہو۔ پکسل 2 کے اندر پکسل وژوئل کور کے نام سے ایک شریک پروسیسر ہے جو امیج پروسیسنگ کو تیز کرتا ہے۔ اسمارٹ فون ڈیزائن کرنا وہ میدان ہے جہاں گوگل قدم نہیں رکھتا تھا لیکن پہلے ہی قدم پر ایسا جاندار فون بنانا کمال ہے۔

تو آپ کون سا فون لینے جا رہے ہیں؟

تبصرے
لوڈنگ۔۔۔۔
error: اس ویب سائٹ پر شائع شدہ تمام مواد کے قانونی حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں