اردو زبان میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کا مستند جریدہ

ہر چار میں سے تین اینڈرائیڈ ایپس صارفین کو ٹریک کرتی ہیں

523

تین چوتھائی سے زیادہ اینڈرائیڈ ایپس ایسی ہیں جو کم از کم ایک تھرڈ پارٹی “ٹریکر” ضرور رکھتی ہیں ۔

فرانسیسی تحقیقی ادارے ایکسوڈس پرائیویسی اور ییل یونیورسٹی کی پرائیویسی لیب کی جانب سے سینکڑوں ایپس کا تجزیہ کیا گیا ہے۔ جس میں ان ایپس میں ان 25 معلوم ٹریکرز کی کھوج لگائی گئی ہے جو موبائل ایپس میں ہوتے ہیں اور مختلف طریقوں سے صارفین کی ذاتی معلومات ہتھیا کر انہیں اشتہارات اور دیگر کاموں کے لیے ہدف بناتے ہیں۔

کسی نہ کسی طرح کا ٹریکنگ پلگ ان استعمال کرنے والی ایپس میں سے بیشتر وہ ہیں جو گوگل پلے اسٹور کی مشہور ترین ایپس میں شامل ہیں جیسا کہ Tinder، Spotify، Uberاور OKCupid۔ یہ چاروں ایپس ایسی سروس استعمال کرتی ہیں جو گوگل کی ملکیت ہے اور Crashlytics کہلاتی ہے، یہ بنیادی طور پر ایپ کریش رپورٹس دیکھتی ہے، لیکن یہ “آپ کے صارفین پر گہری نظر بھی رکھ سکتی ہے کہ وہ کیا کر رہے ہیں اور انہیں خوش کرنے کے لیے براہ ر است سوشل مواد داخل کر سکتی ہے۔”

دیگر بہت بڑے پیمانے پر استعمال ہونے والے ٹریکرز تو چند قدم اور آگے جاتے ہیں۔ ان میں سے ایک FidZup ہے۔ یہ ایک فرانسیسی ٹریکر فراہم کنندہ ہے، جس کی ٹیکنالوجی “موبائل فون کی اور یوں اُن کے مالکان کی بھی موجودگی کا اندازہ لگاتی ہے” وہ بھی الٹرا سونک ٹونز کے ذریعے۔ فڈزپ کا کہنا ہے کہ وہ اب یہ ٹیکنالوجی استعمال نہیں کرتا، کیونکہ اب سادہ وائی فائی نیٹ ورک کے ذریعے ہی صارفین کو ٹریک کرنا آسان ہے۔

ییل کے سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ فڈزپ کی حرکتیں ایک اور کمپنی Teemoجیسی ہی ہیں جسے پہلے Databerries کہتے تھے، یہ رواں سال ایک اسکینڈل میں بھی پھنسی تھی جو 10 ملین فرانسیسی شہریوں کی جیولوکیشن پر تحقیق کرتے ہوئے پکڑی گئی تھی۔ پھر سیف گراف بھی ہے، جس نے گزشتہ سال 10 ملین اسمارٹ فونز کی 17 ٹریلینز لوکیشنز جمع کی تھیں۔ یہ دونوں ٹریکرز پرائیویسی لیبس کی جانب سے پکڑے گئے اور ایکسوڈس اسکین سے شناخت کیے گئے۔

ییل پرائیویسی لیب اپنی تحقیق کے ذریعے گوگل سمیت ان تمام ڈیولپرز کو طلب کررہی ہے کہ وہ ٹریکرز کی پرائیویسی اور سکیورٹی اقدامات میں زیادہ سے زیادہ شفافیت لائیں۔

گو کہ ییل نے آئی او ایس ایپس کا تجزیہ نہیں کیا لیکن وہ خبردار کرتا ہے کہ ایپل کے ایپ اسٹور میں بھی حالات کچھ زیادہ بہتر نہ ہوں گے کیونکہ گوگل پلے پر ایپس دینے والے بیشتر ادارے ایپل پر بھی ایپس دیتے ہیں، جبکہ ٹریکر کمپنیاں کھلے عام سافٹویئر ڈیولپمنٹ کٹس (SDKs) دے رہی ہیں جو مختلف پلیٹ فارمز سے مطابقت رکھتی ہیں۔

تبصرے
لوڈنگ۔۔۔۔
error: اس ویب سائٹ پر شائع شدہ تمام مواد کے قانونی حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں