اردو زبان میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کا مستند جریدہ

گوگل جعلی ویب سائٹس کو پیسے لے کر پہلے نمبر پر دکھا رہا ہے

716

ٹیکنالوجی ماہرین نے گوگل پر انٹرنیٹ کے جرائم یا “سائبر کرائمز” سے فائدہ اٹھانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ گوگل نے انٹرنیٹ سکیمرز سے تلاش کے بہتر نتائج کے لیے رقم وصول کی ہے۔

برطانوی کنزیومر پروٹیکشن ایجنسی کے مطابق سرکاری پورٹلز کی نقل کرنے والی ویب سائٹس کی وجہ سے انٹرنیٹ صارفین کو لاکھوں پاؤنڈ کا نقصان ہوا ہے۔

اطلاعات کے مطابق گوگل کے تلاش کے نتائج کے پہلے صفحات پر ظاہر ہونے کے لیے یہ جعلی ویب سائٹس گوگل کو رقوم ادا کرتی ہیں۔

ایجنسی کا کہنا ہے یہ دھوکے باز ویب سائٹس عمومی خدمات تلاش کرنے والے صارفین کو اضافی رقوم دینے پر مجبور کر دیتی ہیں۔ مثلاً ایک جعلی ویب سائٹ کسی چیز کو پچاس ڈالر میں فروخت کر رہی ہے جبکہ آفیشیل ویب سائٹ پر اس کی قیمت دس ڈالر ہے۔ لیکن چونکہ جعلی ویب سائٹ گوگل نتائج میں اولین نمبروں پر براجمان ہے اس لیے صارفین اس کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں۔

Google accused

اس طرح نہ صرف صارفین ایک بڑا نقصان اُٹھا رہے ہیں وہیں اصل کمپنیاں بھی خسارے کا شکار ہیں۔ اس رپورٹ سے اندازا ہوتا ہے کہ کس طرح گوگل دراصل جعل سازوں کی مدد کرتے ہوئے خود منافع کمانے میں مصروف ہے۔

نیشنل ٹریڈنگ سٹینڈرڈز کے مائک اینڈریوز کے مطابق جعلی ویب سائٹس کو بنیادی فائدہ تلاش کے نتائج میں ظاہر ہونے سے ہوتا ہے یعنی صارف براہ راست ان کی تلاش میں نہیں ہوتا۔

اینڈریوز کا کہنا ہے کہ ٹریڈنگ سٹینڈرڈز ان جعلی ویب سائٹس پر مقدمات دائر کرنا چاہتی ہے تاہم اس کے لیے گوگل اور دوسرے سرچ انجنز کا تعاون ضروری ہے کہ وہ ان جعلی ویب سائٹس کو تلاش کے نتائج سے ہٹائیں اور ان کے اشتہارات کو بند کریں۔

یاد رہے کہ 2014 میں گوگل نے ایسی جعلی ساز ویب سائٹس کے خلاف سخت کاروائی کرنے کا عہد کیا تھا جو انتظامی امور جیسی سرچ ٹرمز کی تلاش پر ظاہر ہوتی ہیں جیسے ڈرائیونگ لائسنس یا پاسپورٹ کس طرح رینیو کیا جائے یا ایسی خدمات کی تلاش جو اصل میں مفت ہوتی ہیں۔

تبصرے
لوڈنگ۔۔۔۔
error: اس ویب سائٹ پر شائع شدہ تمام مواد کے قانونی حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں