اردو زبان میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کا مستند جریدہ

گیمنگ کی لت ایک نفسیاتی مرض ہے، عالمی ادارۂ صحت

274

عالمی ادارۂ صحت نے گیمنگ کی لت کو پہلی بار باضابطہ طور پر ایک دماغی مرض تسلیم کیا ہے اور اسے امراض کے بین الاقوامی مجموعے (International Compendium of Diseases) یا آئی سی ڈی میں شامل کرلیا ہے۔ جس میں گیمنگ مسائل کے حوالے سے دو اصطلاحات استعمال ہوئی ہیں ایک "خطرناک گیمنگ” اور دوسری "گیمنگ مرض” ۔

اول الذکر سے مراد دیگر سرگرمیوں یا ترجیحات سے ممکنہ غفلت کی وجہ سے کسی شخص کے صحت پر پڑنے والے اثرات ہیں جبکہ موخر الذکر رویّہ کسی چیز کی لت پڑ جانے جیسا ہے جس کا نتیجہ ذاتی، گھریلو، سماجی، تعلیمی، پیشہ ورانہ اور دیگر اہم شعبوں میں نمایاں خلل کی صورت میں نکل سکتا ہے۔

آئی سی ڈی کو آخری مرتبہ 1992ء میں اپڈیٹ کیا گیا تھا اور اب اس کا نیا ورژن 2018ء میں آئے گا۔ یہ ڈاکٹروں اور صحت کے شعبے سے وابستہ افراد کے لیے ایک اہم گائیڈ ہے جو امراض کی تشخیص اور ان کا علاج کرتے ہیں۔ اس لیے فہرست میں گیمنگ سے متعلق رویوں کا اضافہ اس "مرض” کے حوالے سے باضابطہ ڈھانچہ مرتب کرنے میں اہم قدم بنے گا۔

چند ماہرین عالمی ادارۂ صحت کے قدم سے مطمئن دکھائی نہیں دیتے جن کا کہنا ہے کہ ایک تفریحی سرگرمی کو حد سے زیادہ کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ اسے مرض قرار دیا جائے ۔ اس امر کے شواہد کم ہی ہیں کہ وڈیوز گیمز دیگر رویّوں کے مقابلے میں زیادہ "نشہ آور” ہیں۔ گیمز کی صنعت بھی اس فیصلےسے متفق نہیں دکھائی دیتی ۔

تبصرے
لوڈنگ۔۔۔۔
error: اس ویب سائٹ پر شائع شدہ تمام مواد کے قانونی حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں