اردو زبان میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کا مستند جریدہ

فیس بک کی وڈیوز سروس جو یوٹیوب کو پیچھے چھوڑ دے گی

1,144

صارفین کی بہت بڑی تعداد کی وجہ سے فیس بک جس میدان میں قدم رکھتا ہے، مقابل اداروں کے خلاف دوڑ میں آگے نکل جاتا ہے۔ اس کی وجہ محض صارفین کی زیادہ تعداد نہیں بلکہ ڈیٹا کلیکشن کا وسیع آپریشن اور فیس بک کا بہت تیز رفتار ہونا بھی ہے۔ پچھلے چند سالوں میں تو فیس بک نے باقی تمام سوشل میڈیا نیٹ ورکس کو کچل کر رکھ دیا ہے اور اب لگتا ہے ایک اور اہم ویب سائٹ اس کے ہدف پر آ گئی ہے۔

فیس بک عرصے سے وڈیوز کو بہت سنجیدہ لے رہا ہے اور اس کی نئی پروڈکٹ ‘واچ’ (Watch) کی آمد سے تو لگتا ہے کہ جلد ہی یوٹیوب دنیا کی سب سے زیادہ دیکھی جانے والی وڈیو ویب سائٹ کے اعزاز سے محروم ہوجائے گا۔ فیس بک نے رواں سال اگست میں ‘واچ’ کی رونمائی کی تھی اور کہا تھا کہ یہ فیس بک پر ایک نیا پلیٹ فارم ہوگا۔

گو کہ گزشتہ چند سالوں سے وڈیوز پر فیس بک کی خاص توجہ ہے لیکن واچ ایک جداگانہ حیثیت سے وڈیو کو برانڈ کرنے کی کمپنی کی پہلی کوشش ہے۔ اس کو اپنا نام، لوگو اور فیس بک پور خاص ٹیب بھی دیا گیا ہے، یعنی یہ فیس بک کی دیگر علیحدہ پروڈکٹس، جیسا کہ میسنجر وغیرہ ، کی طرح جنہیں جسے الگ ایپ کی صورت میں جاری کیا گیا۔

واچ میں “ڈسکوری” کا ایک بھی صفحہ ہے جو صارفین کو یا مواد تجویز کرتا ہے، وڈیو تبصروں اور ری ایکشنز کے لیے بھی ایک باقاعدہ فیڈ موجود ہے، شو کے حوالے سے فیس بک گروپس اور نئے واچ پیجز بھی ہیں۔ تخلیق کاروں اور پبلشرز کے لیے واچ ایک پلیٹ فارم کے طور پر پیش کیا گیا ہے تاکہ انہیں اپنے پرجوش فینز کی تعداد بڑھانے میں اور اپنے کام کے ذریعے پیسہ بنانے میں مدد مل سکے۔ اس پورے معاملے میں فیس بک کا پیش پیش رہنا اور چند دیگر وجوہات بھی ہیں، جن کی بنیاد پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ واچ ایک بڑی کامیابی ہوگی۔

مارک زکربرگ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ وڈیو پلیٹ فارم کے لیے ان کی ترجیح ہے “ہم وڈیو کے سنہرے دور میں ہیں اور مجھے بالکل بھی حیرت نہیں ہوگی اگر پانچ سال آگے کا منظر دکھایا جائے کہ بیشتر مواد جو لوگ فیس بک پر دیکھتے ہیں اور شیئر کرتے ہیں وہ وڈیو ہے۔”

گو کہ یوٹیوب اس وقت کسی بھی دوسرے وڈیو پلیٹ فارم سے زیادہ صارفین رکھتا ہے لیکن اعداد و شمار ظاہر کر رہے ہیں کہ فیس بک بہت تیزی سے اس کے قریب آ رہا ہے۔ واچ کے اجراء سے پہلے ہی فیس بک 100 ملین گھنٹے کا وڈیو واچ ٹائم دے رہا تھا۔

سال بہ سال کے حساب سے دیکھیں تو یوٹیوب کے واچ ٹائم میں 60 فیصد اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے، البتہ فیس بک اپنے روزانہ وڈیو ویوز کو 2015ء کے چھ ماہ میں چار سے آٹھ ارب پر لے آیا تھا۔ اس رفتار کو دیکھیں تو یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ فیس بک 64 ارب ویوز روزانہ تک جا سکتا ہے۔

فیس بک پر دو ارب سے زیادہ ماہانہ متحرک صارفین ہیں جبکہ یوٹیوب پر یہ تعداد ڈیڑھ ارب ہے۔ پھر اہم بات یہ کہ فیس بک کے پاس وہ صارفین بھی زیادہ ہیں جو اپنے بارے میں زیادہ معلومات دیتے ہیں یعنی فیس بک یہ زیادہ بہتر جانتا ہے کہ کون سا صارف کیا دیکھنا چاہتا ہے، واچ پر بھی اور پورے فیس بک پر بھی۔

پھر یوٹیوب پر بے نام بدتمیزوں کا راج ہے، جن کے گھٹیا تبصروں سے سائٹ بھری پڑی ہے جبکہ فیس بک کی “اصل نام” کے حوالے سے پالیسی سخت ہے اور وہ یوٹیوب سے کہیں زیادہ اپنے صارفین کا “اصل” پروفائل ڈیٹا رکھتا ہے۔ یہ تمام خصوصیات فیس بک کو زیادہ بہتر وڈیوز پیش کرنے کے قابل بنائیں گی۔

اس کے علاوہ فیس بک بہت تیزی سے منافع بخش بن رہا ہے جبکہ یوٹیوب کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ بمشکل اپنے اخراجات پورے کر پا رہا ہے۔ پھر فیس بک پر ویسے ہی وڈیو اپلوڈز کو یوٹیوب سے 10 گنا زیادہ شیئر ملتے ہیں

رواں سال تو یوٹیوب کے لیے ویسے بھی بہت برا رہا ہے۔ پہلے یورپ اور امریکا کے درجنوں بڑی کمپنیوں نے یوٹیوب کا بائیکاٹ کیا کیونکہ ان کے اشتہارات انتہائی متنازع وڈیوز کے ساتھ دکھائی دیے۔ ان میں پیپسی، والماٹ، اسٹاربکس اور جی ایم جیسے ادارے بھی شامل تھے ۔ پھر ایک کے بعد ایک تنازع کھلتا چلا گیا اور اب عالم یہ ہے کہ یوٹیوب اپنے سب سے مشکل دور سے گزر رہا ہے۔ اس عالم میں فیس بک کی جانب سے واچ کا اجراء گویا تابوت میں آخری کیل ہوگی۔ ایسا نہیں کہ یوٹیوب ماضی کا حصہ بن جائے گا لیکن اس کا حال اسنیپ چیٹ اور ٹوئٹر جیسا ہوگا جو فیس بک کے سامنے اب بونے نظر آ رہے ہیں۔

تبصرے
لوڈنگ۔۔۔۔
error: اس ویب سائٹ پر شائع شدہ تمام مواد کے قانونی حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں