اردو زبان میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کا مستند جریدہ

فیس بک پر لاکھوں جعلی لائیکس دینے والی خرابی پاکستانی محقیقین نے دریافت کر لی

1,665

facebook fake likesجیسا کے سب جانتے ہیں کہ فیس بک اِس وقت سب سے مشہور سوشل میڈیا ہے جس پر خبر آنے کا مطلب ہے چند سیکنڈ میں پوری دُنیا میں پھیل جانا۔

فیس بک پر وہ  پوسٹ سب سے زیادہ  مشہور ہوتی ہے  جو زیادہ پسند اورشیئر کی جائے اور جس پر زیادہ لوگ کمنٹ کریں۔ ایسا لگتا ہے اکثر فیس بُک  پوسٹ پر جو لائک اصل لگتے ہیں وہ  لوگوں کی بجائے کسی غلط طریقہ سے دوسروں کو متاثر کرنے کے لئے خود کروائے جاتے ہیں۔

بہت سے لوگوں کو فیس بُک کی خامی کا علم ہو گیا ہے اور وہ اِس کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے اپنی پوسٹ پر کروڑوں لائیکس اور  کمنٹس حاصل کر رہے ہیں تاکہ اپنے مقابل کو متاثر کر سکیں۔

محققین کی ٹیم نے  تحقیق سے اندازہ لگایا  ہے کہ کم سے کم ایک ملین جعلی اور حقیقی اکاؤنٹس  ایک "کولیوژن نیٹ ورک”میں شامل  ہیں جو سو لاکھ سے زیادہ  جعلی کمنٹس اور لائیکس فراہم کرتے ہیں۔ جس  ٹیم نے یہ  تحقیق کی ہے اُس میں فرید ظفر (لمس) شہروز فاروقی، زبیر شفیق (دی یونیورسٹی آف لووا) اور نیک ٹئریس لینٹیئڈس (فیس بُک) شامل ہیں۔

ٹیم کہتی ہے کہ اس تحقیق میں انہوں نے بے نقاب کیا ہے کہ بڑے پیمانے پر ایک مستحکم ینٹ ورک ہے جو  اپنے نمائندوں کو  حلف اور رسائی کا  ٹوکن دیتا ہے اور بعد میں مجبور کرتے ہیں کہ وہ  دوسرے  نمائندے کی پوسٹ پر لائک اور کمنٹ کریں۔

کولیوژن نیٹ ورک کا پتا چلانا بہت مشکل ہے کیونکہ اِس میں سب اکاؤنٹس کا اتحاد ہوتا ہے اور یہ سب ایک دوسرے کی پوسٹ کو لائک، شیئر اور کمنٹ کرتے ہیں۔ اِس طرح پوسٹ فیس بُک پر مشہور نظر آتی ہے اِس بات سے قظع نظر کہ چاہے اُس میں غلط معلومات دی گئی ہوں۔

کولیوژن نیٹ ورک جب کسی اکاؤنٹ کو رسائی کا ٹوکن دیتے ہیں تو وہ اکاؤنٹ اُن کے قبضے میں آجاتا ہے جس کو وہ اپنے مقصد کےلئے استعمال کرتے رہتے ہیں۔ ایسے اکاؤنٹ کا پتا  لگانا آسان نہیں کیونکہ  یہ چالاکی کے ساتھ اصلی اور جعلی دونوں کو ملا کر کام کرتے ہیں۔

سوشل میڈیا نیٹ ورک کے لئے ایسی غلط حرکات پر نظر رکھنا بہت مشکل ہے۔ اِس وقت فیس بُک اور ٹوئٹر پر دس ملین جعلی اکاؤنٹ ہیں۔

یہ پہلی ٹیم ہے جس  نے فیس بُک پر اِس طرح کی حرکات کا انکشاف  کیا ہے۔ یہ  تحقیق پچھلے بُدھ کو شائع ہوئی ہے اور یکم نومبر 2017 کو ایسوسی ایشن کمپیوٹنگ مشینری انٹرنیٹ پیمائش کانفرنس میں پیش کی جائے گی۔

تبصرے
لوڈنگ۔۔۔۔
error: اس ویب سائٹ پر شائع شدہ تمام مواد کے قانونی حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں