اردو زبان میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کا مستند جریدہ

فیس بک انسانی نفسیات سے کھیلتا ہے، سابق صدر پھٹ پڑے

570

فیس بک کے سابق صدر شان پارکر نے مقبول ترین سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے تخلیق کاروں پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ انسانی نفسیات کے ساتھ کھیل رہے ہیں ۔

ایک حالیہ انٹرویو میں پارکر نے کہا کہ ایسی تمام ایپلی کیشنز بنانے میں بنیادی سوچ یہی ہوتی ہے، بالخصوص فیس بک تو ان سب میں آگے آگے ہے، کہ عام صارف زیادہ سے زیادہ وقت اس پر گزارے اور زیادہ سے زیادہ توجہ حاصل کرے۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے آپ کو روزانہ ‘ڈوپامائن’ کی کچھ خوراک دی جائے کیونکہ کسی نے آپ کی تصویر کو لائیک کیا ہے، یا تبصرہ کیا ہے وغیرہ وغیرہ۔ اس سے آپ کو سوشل میڈیا پر مزید کچھ ڈالنے کی تحریک ملتی ہے اور یوں ایک چکر شروع ہو جاتا ہے جو دراصل گھن چکر ہے۔

شان پارکر نے کہا کہ مارک زکربرگ اور سوشل میڈیا ایپس بنانے والے تمام افراد اس سے واقف ہیں۔ موجد، تخلیق کار، میں، مارک، انسٹاگرام پر کیون سسٹروم، سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہم کیا کر رہے ہيں اور پھر بھی یہ قدم اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ گو کہ بڑے سوشل نیٹ ورکس کے انسانی ذہن پر پڑنے والے تمام اثرات طے شدہ نہیں ہوتے لیکن جہاں نیٹ ورک ایک سے دو ارب افراد تک پھیل جائے، وہاں ایسے اثرات بھی پڑتے ہیں جو طے شدہ نہیں ہوتے۔

تحریر جاری ہے۔ یہ بھی پڑھیں

“سوشل میڈیا درحقیقت آپ کے معاشرے اور ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات کو تبدیل کرتا ہے، یہ آپ کی پیداواری صلاحیت پر عجیب و غریب انداز میں اثر انداز ہوتا ہے اور اور خدا ہی جانتا ہے کہ یہ ہمارے بچوں کے دماغوں کے ساتھ کیا کر رہا ہے؟”

شان پارکر کی یہ آخری بات بہت خوفناک ہے اور اس کی ہیبت ناکی اس لیے بڑھ رہی ہے کیونکہ یہ ایک ایسے شخص کے منہ سے نکلے ہوئے الفاظ ہیں، جو اس کی بنیاد ڈالنے والوں میں سے ایک تھا۔

تبصرے
لوڈنگ۔۔۔۔
error: اس ویب سائٹ پر شائع شدہ تمام مواد کے قانونی حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں