اردو زبان میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کا مستند جریدہ

ایلن مسک آسمان سے انٹرنیٹ آپ تک پہنچانا چاہتے ہیں

96

انٹرنیٹ بہت سے لوگوں کے لئے ایک بنیادی ضرورت بن چکا ہے۔ فن لینڈ دنیا کا پہلا ملک ہے جس نے اپنی شہریوں کی انٹرنیٹ تک رسائی کے حق کو تسلیم کرتے ہوئے اسے بنیادی انسانی حقوق میں شامل کرلیا ہے۔ لیکن یہ بات بھی ڈھکی چھپی نہیں کہ دنیا کی آدھی آبادی ابھی تک انٹرنیٹ سے محروم ہے۔ دنیا بھر میں کئی علاقے ایسے ہیں جہاں انٹرنیٹ کے ممکنہ صارفین تو موجود ہیں، لیکن وہاں کے باسیوں کو سستا انٹرنیٹ پہنچانا بہت مشکل کام ہے۔ مثلاً پاکستان کے بالائی علاقوں ، بلوچستان کے دشوار گزار علاقوں سمیت پورے پاکستان میں ہی ہزاروں ایسے علاقے ہیں جہاں فی الحال انٹرنیٹ تک سستی رسائی ممکن ہی نہیں۔ سٹیلائٹ انٹرنیٹ کی شکل میں انٹرنیٹ ہر جگہ استعمال تو کیا جاسکتا ہے، لیکن یہ اتنا سستا نہیں کہ اس پر سارا دن بیٹھ کر یوٹیوب ویڈیوز دیکھی جائیں۔ انٹرنیٹ دنیا کے کونے کونے تک پہنچانا ایک مشن بن گیا ہے جسے حکومتوں کے بجائے اب انفرادی کمپنیوں نے اپنی ذمے داری سمجھ کر پورا کرنے کی کوشش شروع کردی ہے۔ اسی کوشش میں معروف شخصیت ایلن مُسک کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔ یہ اپنے منفرد منصوبوں اور ناممکن سمجھے جانے والے کاموں کو انجام دینے کی ٹھان لینے کے لئے شہرت رکھتے ہیں۔

 

تحریر جاری ہے۔ یہ بھی پڑھیں

ایلن مُسک آپ تک انٹرنیٹ آسمان سے اتارنا چاہتے ہیں۔ جی ہاں، وہ چاہتے ہیں کہ انٹرنیٹ تک رسائی مصنوعی سیاروں کے ذریعے ممکن بنائی جائے، اس کے لئے وہ 4000 سے زائد مصنوعی سیاروں کا نیٹ ورک خلاء میں قائم کرنا چاہتے ہیں جس کے ذریعے دنیا کے کونے کونے میں براڈ بینڈ انٹرنیٹ تک رسائی حاصل ہوسکے گی۔ ایلن مُسک کا یہ منصوبہ بہت مہنگا ہے۔ جنوری 2015ء میں ان کا اندازہ تھا کہ اس پروجیکٹ کی لاگت 10 ارب ڈالر ہوگی اور اس مد میں انہیں گوگل سمیت دوسری کمپنیوں سے ایک ارب ڈالر کا سرمایہ بھی حاصل ہوگیا تھا۔ اب اس حوالے سے تازہ ترین خبر یہ ہے کہ ایلن مُسک کی کمپنی اسپیس ایکس نے امریکی حکومت سے چھوٹے مصنوعی سیارے مدار میں بھیجنے کے لئے باقاعدہ اجازت طلب کی ہے۔ خبر رساں ایجنسی روئیٹرز کے مطابق اسپیس ایکس نے چار ہزار چار سو پچیس مصنوعی سیارے مدار میں بھیجنے کا منصوبہ پیش کا ہے۔ تاہم ابتداء میں 800 مصنوعی سیارے خلاء میں بھیجے جائیں گے جو کہ امریکہ، ورجن آئی لینڈاور پورٹو ریکو کا احاطہ کرے گا۔ اسپیس ایکس کے مذکورہ مصنوعی سیاروں کا حجم 4×1.8×1.2 میٹر اور وزن تقریباً 390 کلو گرام ہوگا۔ جبکہ یہ سطح زمین سے گیارہ سو سے تیرہ سو کلومیٹر بلندی پر گردش کریں گے۔ اسپیس ایکس ناسا کے کئی خلائی مشن کامیابی سے مکمل کرچکا ہے۔ اس کے پاس اپنے راکٹ ہیں جبکہ یہ کمپنی دوبارہ استعمال کے قابل راکٹ کے تجربات بھی مسلسل کررہی ہیں۔ ان میں سے کچھ کامیاب اور کچھ ناکام ہوئے ہیں۔

 

اس میدان میں اسپیس ایکس تنہا نہیں ہے۔ OneWeb اور طیارے بنانے والی معروف کمپنی بوئنگ بھی مصنوعی سیاروں کا ایسا ہی نظام بنانے کی کوشش کررہی ہے۔ دوسری جانب فیس بک اور گوگل انفرادی طور پر خود بھی طیاروں، غباروں اور دیگر طریقوں سے انٹرنیٹ کو پھیلانے کی کوشش کررہے ہیں۔ لیکن اب تک نہ اسپیس ایکس اس کوشش میں کامیاب ہوئی نہ ہی کوئی دوسری کمپنی اپنے نظام کو مکمل کرسکی ہے۔ اسپیس ایکس کا منصوبہ گوگل اور فیس بک کے منصوبے کے مقابلے میں زیادہ سنجیدہ اور قابل عمل ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اسپیس ایکس اس انقلابی منصوبے کو کب تک مکمل کرپاتی ہے۔

تبصرے
لوڈنگ۔۔۔۔
error: اس ویب سائٹ پر شائع شدہ تمام مواد کے قانونی حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں