اردو زبان میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کا مستند جریدہ

ایلو، گوگل کا شکنجہ توڑنے والا نیا موبائل آپریٹنگ سسٹم

1,515

اس جدید دور میں پرائیویسی بہت زیادہ اہم ہوتی جا رہی ہے اور حیرت کی بات نہیں اگر سائلنٹ سرکل اور بلیک بیری جیسے ادارے ایسی مارکیٹ سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں۔ ایسا کرنے کی کوشش بہرحال بہت زیادہ کامیاب نہیں ہو سکی لیکن گائل ڈوول اب بھی اپنے ایلو موبائل آپریٹنگ سسٹم کے ساتھ کچھ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اوپن سورس اور لینکس کمیونٹی کے معروف رکن ڈوول لاکھوں صارفین کی طرح ہرگزیہ پسند نہیں کرتے کہ ان کی پرائیویسی ایپل اور گوگل جیسے اداروں کے رحم و کرم پر ہو۔کہتے ہیں کہ "گوگل بہت بڑا ہو چکا ہے اور ہم کیا کر رہے ہیں؟ اس بارے میں بہت ساری معلومات اکٹھی کر رہا ہے۔ وہ ہمارے بارے میں زیادہ سے زیادہ جاننے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ ہمیں اشتہارات بیچ سکے۔ اس لیے میں اپنی پرائیویسی واپس لینا چاہتا ہوں۔”

اب وہ دو دوسرے ڈیولپرز کے ساتھ مل کر ایک اینڈرائیڈ بیسڈ آپریٹنگ سسٹم بنا چکے ہیں جس کی پوری توجہ ہے پرائیویسی پر ہے اور اس کا نام ہے ایلو (eelo)!

ڈوول کہتے ہیں کہ وہ متبادل کی جانب دیکھ رہے تھے جیسا کہ فائرفاکس او ایس، لیکن پایا کہ وہ استعمال کے لیے بہت سادہ ہے اور پرکشش بالکل بھی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا آئیڈیا ہرگز ایک لینکس بیسڈ آپریٹنگ سسٹم بنانے کا نہیں تھا کیونکہ ایسا کرنے کے لیے بہت محنت درکار ہوتی، جیسا کہ کینونیکل کے ساتھ ہوا، جس نے کوشش کی اور بری طرح ناکام بھی ہوا۔

اس کے بجائے ایلو پہلے سے موجود لائن ایج او ایس پر تشکیل دیا گیا، جو اینڈرائیڈ بیسڈ اوپن سورس آپریٹنگ سسٹم ہے اور سیانوجن موڈ کی راکھ سے اٹھا۔ البتہ ڈوول کا کہنا تھا کہ یہ ان کی ضرورت کے لیے کافی نہیں تھا، کیونکہ جمالیاتی طور پر کمزور تھا اور چھوٹی موٹی تفصیلات پر کام عام صارفین کے لیے اسے بہترین بناتا۔

اینڈرائيڈ بیسڈ ہونے کے باوجود ایلومیں نئے ڈیزائن کا لانچر ہے، آئیکونز، نوٹیفکیشن سسٹم اور "کنٹرول سینٹر” سب الگ ہیں۔ آپریٹنگ سسٹم گوگل پلے اسٹور، گوگل پلے سروسز اور گوگل سروسز سے بھی آزاد ہے، جو عام صارفین کے لیے ایک کڑوی گولی ہوگی، کیونکہ شاید اس کے بغیر جین ان نکے لیے مشکل ہوگا۔ البتہ ڈوول نے پلے اسٹور کی جگہ “ایلو اسٹور”شاملکیا ہے جوآفیشل مفت ایپلی کیشنز رکھتا ہو۔ سرچ کے لیے ڈک ڈک گو اور کوینٹ استعمال کرنے کا منصوبہ ہے گو کہ آپ اپنا سرچ انجن خود بھی منتخب کر سکتے ہیں۔ آخر میں ایلو کویڈ9 ڈی این ایس استعمال کرے گا جو پرائیویسی پر حملہ آور سائٹس کو بلاک کرے گا۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا ڈوول کامیاب ہوں گے؟ جبکہ وہ اس منصوبے سے کوئی منافع بھی حاصل نہیں کرنا چاہتے بلکہ اسے عوامی مفاد کا منصوبہ قرار دے رہےہیں۔ اس کا مطلب ہرگز نہیں کہ ایلو سب کے لیے مفت ہے۔ ڈوول اداروں کے لیے پریمیئم سروسز کے خواہشمند ہیں اور یہ بھی چاہتے ہیں کہ یہ پہلے سے اسمارٹ فونز میں انسٹالڈ ہو۔ ایلو کے لیے کک اسٹارٹر پیج بھی موجود ہے جہاں وہ 60 ہزار ڈالرز سے زیادہ حاصل کرچکا ہے حالانکہ ہدف 30 ہزار ڈالرز تھا۔ اگر سب کچھ منصوبے کے مطابق ہوتا رہا تو مارچ میں ایلو اپنا آغاز کر سکتا ہے۔

تبصرے
لوڈنگ۔۔۔۔
error: اس ویب سائٹ پر شائع شدہ تمام مواد کے قانونی حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں