دنیا کے طاقتور ترین راکٹ کا کامیاب تجربہ

886

اسپیس ایکس کے نئے ‘فیلکن ہیوی راکٹ’ کا کامیاب تجربہ کرلیا گیا ہے۔

شٹل نظام کے بعد اپنی طرز کا دنیا کا سب سے طاقتور راکٹ فلوریڈا کے کینیڈی اسپیس سینٹر سے اڑا اور اس کے ساتھ ہی فیلکن ہیوی دنیا کا طاقتور ترین راکٹ بن گیا ہے۔ یہ زمین کے زیریں مدار میں 64 ٹن تک سامان لے جا سکتا ہے یعنی لندن کی پانچ ڈبل ڈیکر بسیں خلاء میں جا سکتی ہیں ۔ گو کہ اس بار بسیں نہیں بھیجی گئیں لیکن اسپیس ایکس کے مالک ایلون مسک نے اپنی استعمال شدہ ٹیسلا روڈسٹر اسپورٹس کار ضرور بھیجی ہے جس کی ڈرائیونگ سیٹ پر ایک پتلا بیٹھا ہوا ہے جو ریڈیو پر ڈیوڈ بووی کا گانا سن رہا ہے۔

بہرحال، فیلکن ہیوی دنیا کے دوسرے سب سے بڑے راکٹ ‘ڈیلٹا IV ہیوی’ سے دوگنا زیادہ طاقتور ہے لیکن زیادہ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سے لاگت ایک تہائی سے بھی کم ہو جائے گی۔

اس تجرباتی اور غیر معیّن مشن کے لیے اسپیس ایکس کے تین فیلکن 9 راکٹوں کو ملایا گیا۔ یہ تینوں راکٹ واپس زمین پر آئے، دو کینیڈی اسپیس سینٹر کے جنوب میں ساحل کے قریب واقع ٹچ ڈاؤن زون میں اترے اور وہ بھی ایک ساتھ لیکن تیسرے بوسٹر کو چند سو کلومیٹر دور سمندر میں اترنا تھا لیکن رفتار کو کم کرنے کے درکار ایندھن کم ہو جانے کی وجہ سے وہ ہدف تک نہیں پہنچ سکا اور 500 کلومیٹر فی گھنٹے کی رفتار سے پانی میں گر کر تباہ ہو گیا۔

اب خلا میں موجود فیلکن ہیوی اور اس میں موجود ٹیسلا اس سمت میں رواں ہے، جہاں سے وہ مریخ کے مدار میں پہنچ جائے گا۔

اتنے بڑے اور طاقتور راکٹوں کا بننا ایلون مسک اور ان کی اسپیس ایکس کمپنی کے لیے بھی نئے امکانات پیداکر رہا ہے جیسا کہ امریکی انٹیلی جینس اور فوج کے لیے زیادہ بڑے سیٹیلائٹ کا امکان۔ اس وقت سیٹیلائٹس کو موجودہ راکٹ ٹیکنالوجی کارکردگی کی وجہ سے محدود رکھنا پڑتا ہے ۔ پھر ایلون مسک کا خواب ہے دنیا بھر میں براڈ بینڈ کی فراہمی۔ ان راکٹوں کے ذریعے ہزاروں ننھے اسپیس کرافٹ خلاء میں بھیجے جا سکتے ہیں جو یہ کام کر سکیں گے۔ مریخ کی سطح پر بھیجنے کے لیے زیادہ بڑے روبوٹس کی تیاری بھی ممکن ہو سکتی ہے بلکہ انہیں مشتری اور زحل اور ان کے چاندوں پر بھی بھیجا جا سکتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ ہبل کی جگہ بڑی ٹیلی اسکوپ کی تیاری بھی کی جا سکتی ہے جیسا کہ جیمز ویب ٹیلی اسکوپ ہے۔ یہ تمام کام فیلکن ہیوی جیسے بڑے راکٹوں کی مدد سے آسان ہو سکتے ہیں اور ان پر آنے والی لاگت میں بھی بڑی کمی آئے گی۔

ایلون مسک کے الفاظ میں واپس آنے والے راکٹ اور ان کو دوبارہ استعمال کرنے کی صلاحیت ‘گیم چینجر’ ہے۔

تبصرے
لوڈنگ۔۔۔۔
error: اس ویب سائٹ پر شائع شدہ تمام مواد کے قانونی حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں