اردو زبان میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کا مستند جریدہ

اینڈرائیڈ کی ٹارچ ایپس میں ایڈویئر

846

سکیورٹی کے کئی ماہرین اینڈرائیڈ صارفین کو کہتے رہتے ہیں کہ صرف گوگل پلے پر موجود ایپس ہی ڈاؤنلوڈ کریں، یعنی اسی آفیشل اسٹور سے جو گوگل خود چلاتا ہے اور وجہ ہے صارفین کو وائرس اور اسپیم سے محفوظ رکھنا۔ لیکن … حقیقت یہ ہے کہ خود گوگل پلے بھی شکار بن جاتا ہے۔

سائبر سکیورٹی سافٹویئر کمپنی چیک پوائنٹ کے ماہرین نے پایا ہے کہ نیا ایڈویئر "لائٹس آؤٹ” 22 مختلف فلیش لائٹ اور دیگر یوٹیلٹی ایپس کے اندر موجود ہے جو گوگل ایپس پر دستیاب ہیں۔ چیک پوائنٹس اندازہ لگاتا ہے کہ یہ ایڈویئر 15 سے 75 لاکھ ڈاؤنلوڈز کو متاثر کر چکے ہیں۔ یہ ایپس گوگل پلے سے ہٹا دی گئی ہیں اور اس معاملے پر گوگل نے کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

جیسے 90ء کی دہائی میں پوپ اپس نے جان عذاب میں ڈالی ہوئی تھی، بالکل ویسے ہی لائٹس آؤٹ صارف کے فون پر اشتہارات لے آتا ہے، چاہے وہ ایپ پر موجود ہو یا نہ ہو۔ یہ اشتہارات وائی فائی کنکشن کے ذریعے کسی بھی وقت آ سکتے ہیں، کسی کال کے خاتمے پر، چارجر نکالنے پر، یا اسکرین لاک کرنے پر اور ایپس میں اشتہارات ڈس ایبل کرنے کے باوجود صارفین کی جان نہیں چھوڑتے۔

تحریر جاری ہے۔ یہ بھی پڑھیں

چند صارفین کا کہنا ہے کہ ایڈویئر ایسے بھی ہوتے ہیں جو فون کال وصول کرنے کے لیے صارف کو اشتہارات پر کلک کرنے اور ڈیوائس پر چند دیگر کاموں پر مجبور کرتے ہیں۔ ایک صارف نے یہ بھی بتایا کہ ایپ کا ایڈ فری ورژن خریدنے کے باوجود اسے اشتہارات نظر آئے۔

گو کہ اس طرح اشتہارات دکھانا کمانے کا غیر قانونی طریقہ ہے، لیکن یاد رکھیں یہ وائرس نہیں ہے۔ یہ مخصوص ایپس کے اندر رہنے والا ایک کوڈ ہے اور ایک مرتبہ ایپ ڈیلیٹ ہو جانے کے بعد ختم ہو جاتا ہے جبکہ وائرس کا معاملہ مختلف ہے۔

تبصرے
لوڈنگ۔۔۔۔
error: اس ویب سائٹ پر شائع شدہ تمام مواد کے قانونی حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں