اردو زبان میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کا مستند جریدہ

اینڈرائیڈ گو کیا، کیوں، کیسے؟

1,322

رواں سال گوگل آئی/او کے موقع پر دنیا کے سب سے بڑے ٹیکنالوجی ادارے گوگل نے مختصر تعارف کے بعد ‘اینڈرائیڈ گو’ کا باضابطہ اجراء کیا تھا۔ یہ ادارے کا نیا سافٹویئر منصوبہ ہے جسے پاکستان اور بھارت جیسی ترقی پذیر مارکیٹوں کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ گوگل نے اینڈرائیڈ گو کو او ای ایمز (Original Equipment Manufacturers) کے لیے کھول دیا ہے، جو پلیٹ فارم کے لیے ڈیولپنگ کر رہے ہیں۔

اینڈرائیڈ گو، جسے اینڈرائیڈ اوریو (گو ایڈیشن) بھی کہا جا رہا ہے، کیا ہے؟ آئیے جانتے ہیں:

مختصراً اینڈرائیڈ گو اینڈرائیڈ اوریو کا ہلکا ورژن ہے، جو تین حصوں پر مشتمل ہے، آپریٹنگ سسٹم، گوگل پلے اسٹور اور گوگل ایپس ۔ اسے اس طرح تیار کیا گیا ہے تاکہ یہ ہلکے پھلکے ہارڈویئر پر بھی بہتر انداز میں چل سکے ۔ آپریٹنگ سسٹم تو بنیادی طور پر اینڈرائیڈ اوریو پر ہی مبنی ہے لیکن اسے اس طرح بنایا گیا ہے کہ یہ 1 جی بی یا اس سے بھی کم ریم کے اسمارٹ فونز پر بخوبی چل سکے۔ یہ اینڈرائیڈ نوگٹ کے مقابلے میں نصف اسٹوریج استعمال کرے گا یوں کم گنجائش والے فونز کے لیے کارآمد ہوگا۔

android-go

مزید برآں، اینڈرائیڈ اوریو (گو ایڈیشن) پر چلنے والی ڈیوائسز کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ پچھلے اینڈرائیڈ سافٹویئرز کے مقابلے میں ایپس کو 15 فیصد زیادہ تیزی سے کھول رہی ہیں ۔ اس کے علاوہ گوگل نے “ڈیٹا سیور” فیچر کو بھی ڈیفالٹ میں شامل کردیا ہے جو صارفین کو کم موبائل ڈیٹا استعمال کرنے میں مدد دے گا۔ آپریٹنگ سسٹم کی طرح گوگل نے ڈیوائس کی میموری کے بہتر استعمال کے لیے ایپس بھی تیار کی ہیں۔

ادارے نے اپنی GSuite ایپس کو کم وزن اور بہتر کارکردگی کا حامل بنایا ہے تاکہ وہ ہلکے پھلکے ہارڈویئر پر بھی بخوبی چل سکیں۔ یہ پہلے سے انسٹال شدہ ایپس اپنے عام ورژنز کے مقابلے میں 50 فیصد کم جگہ گھیریں گی اور اس میں یوٹیوب گو، گوگل میپس گو اور جی میل گو شامل ہوں گی ۔ گوگل اسسٹنٹ 1 جی بی یا اس سے کم ریم کے حامل فونز پر چلے گا جسے گوگل اسسٹنٹ گو کا نام دیا جا رہا ہے اس کے علاوہ گوگل نے چند نئی ایپس بھی جاری کی ہیں جیسا کہ گوگل گو اور فائلز گو۔ گوگل گو دراصل گوگل لائٹ ایپ کا تبدیل شدہ ورژن ہے جبکہ فائلز گو ایک فائل مینیجر ایپ ہے جو اسٹوریج اسپیس کو خالی کرنے میں مدد دے گی۔

گوگل کے Building for Billions منصوبے کے تحت دیگر تخلیق کار بھی مستقبل میں اینڈرائیڈ گو کے لیے خاص ایپس بنا سکیں گے ۔

صارفین کی مدد کے لیے اینڈرائیڈ گو ڈیوائسز میں پلے اسٹور کا ایک خاص ورژن بھی ہوگا۔ اینڈرائیڈ اوریو (گو ایڈیشن) پلے اسٹور عام پلے اسٹور جیسا ہی وگا، بس اس کا پہلا صفحہ کم اسٹوریج رکھنے والی ڈیوائسز کے لیے موزوں ایپس پر مشتمل ہوگا، جہاں اینڈرائیڈ گو ڈیوائسز کے لیے تجویز کردہ ایپس دکھائی جائیں گی۔

اب جبکہ معاملہ او ایمز تک پہنچ چکا ہے، امید ہے کہ اگلے چند ماہ میں ہی اینڈرائیڈ گو کی حامل ابتدائی ڈیوائسز مارکیٹ میں آ جائیں گی۔ گوگل اس وقت ترقی پذیر دنیا پر توجہ رکھتا ہے بلکہ اینڈرائیڈ گو کے اعلان میں بھی کہا تھا کہ امریکا سے زیادہ اینڈرائیڈ صارفین بھارت میں ہیں۔ اس لیے لگتا یہی ہے کہ اینڈرائیڈ گو کا پہلا قدم بھارت میں ہی پڑے گا۔

نیا آپریٹنگ سسٹم اور پہلے سے انسٹال شدہ ایپس پیکیج اینڈرائیڈ گو کے لیے بہترین آغاز ہیں لیکن تب کیا ہوگا جب لوگ حقیقی دنیا میں ان ڈیوائسز کا استعمال شروع کریں گے؟ یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا۔

تبصرے
لوڈنگ۔۔۔۔
error: اس ویب سائٹ پر شائع شدہ تمام مواد کے قانونی حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں