اردو زبان میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کا مستند جریدہ

امریکیوں کو تین سال بعد ایڈز کا پتہ چلتا ہے

377

صحت کے امریکی اداروں کی شائع کردہ ایک ریپورٹ کے مطابق امریکیوں میں “ایڈز” کی تشخیص وائرس کے انتقال کے تقریباً تین سال بعد ہوتی ہے۔

تاہم سابقہ شماریات کے حساب سے مرض کی منتقلی اور تشخیص کے درمیانی وقفے میں بہتری آئی ہے جو 2011 میں تین سال اور سات مہینے تھی۔

یہ تحقیق امریکہ کے وفاقی سینٹرز فار ڈیزیز اینڈ کنٹرول Centers for Disease Control نے شائع کی ہے۔

سی ڈی سی نے اس بہتری کو خوش آئند قرار دیا تاہم سینٹر نے زور دیا کہ جن لوگوں کو اس وائرس کا شکار ہونے کے زیادہ خطرات لاحق ہوں انہیں چاہیے کہ وہ تواتر کے ساتھ اپنے ٹیسٹ کرائیں کیونکہ ایڈز کے 40 فیصد کے قریب نئے کیسز ایسے ہوتے ہیں جن میں مریض اپنے حالت سے آگاہ ہی نہیں ہوتا۔

سینٹر کے مطابق اگر مرض کی تشخیص جلد ہوجائے تو وائرس کو کنٹرول کرنے والے لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہوجاتا ہے اور نئے کیسز میں کمی واقع ہوتی ہے۔

“سی ڈی سی” تجویز کرتا ہے کہ وہ لوگ جن کی عمریں 13 سے 64 سال کے درمیان ہیں انہیں زندگی میں ایک بار “ایچ آئی وی” کا ٹیسٹ ضرور کرا لینا چاہیے۔

تبصرے
لوڈنگ۔۔۔۔
error: اس ویب سائٹ پر شائع شدہ تمام مواد کے قانونی حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں