اردو زبان میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کا مستند جریدہ

ایک سال میں 7 لاکھ سے زیادہ ایپس پر پابندی

793

ساڑھے 3 ملین ایپس، 82 ارب ایپ ڈاؤنلوڈز اور 2 ارب سے زیادہ متحرک اینڈرائیڈ صارفین کے ساتھ گوگل پلے بلاشبہ ہیکرز کا پسندیدہ نشانہ رہا ہے۔ لیکن گوگل پلے اسٹور کی سکیورٹی کو بہتر بنانے کے لیے سخت سے سخت قدم اٹھائے جا رہے ہیں اور گزشتہ دو سالوں میں گوگل نے اینڈرائیڈ کے ماحول کو مالویئر سے کافی حد تک پاک کردیا ہے۔

بلاشبہ کوئی بھی آپریٹنگ سسٹم یا ڈجیٹل ڈسٹری بیوشن سروس سائبر حملوں سے 100 فیصد محفوظ نہيں ہوتی، لیکن گوگل "کسی ناقص ایپ کے انسٹال ہونے کے امکانات” کو کم سے کم کرنے کے لیے بہت کام کر رہا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ صرف ایک سال میں پلے اسٹور پر یہ خطرہ آدھا رہ گیا ہے۔

وجہ ہے گوگل کا اپنی پالیسیوں کا بے رحمانہ اطلاق، جس کی خلاف ورزی پر صرف 2017ء میں 7 لاکھ سے زیادہ ایپس کو باہر کا راستہ دکھایا گیا۔ یہ 2016ء کے مقابلے میں نکالی گئی ایپس میں 70 فیصد اضافہ ہے۔ گو کہ یہ بہت پیچیدہ، وقت طلب کام لگتا ہے لیکن "ناقص ایپس” کی شناخت اور ان کے خلاف قدم اٹھانے کا یہ کام کافی تیز اور بہتر بنایا گیا ہے۔ بلکہ حقیقت میں99 فیصد ناقص ایپس کہیں بھی انسٹال ہونے سے پہلے ہی شناخت کرکے مسترد کردی جاتی ہیں، جو ایک متاثر کن بات ہے۔ دراصل مشین لرننگ کے ماڈلز اور تکنیک، یعنی مصنوعی ذہانت نے اس کام کو بہت حد تک آسان بنا دیا ہے۔

ایسی ایپس ایس ایم ایس فراڈ، ٹروجان داخل کرنے یا معلومات چرانے ہی میں ملوث نہيں ہوتیں بلکہ "مشہور ایپس” کی نقل بنا کر بھی صارفین کو بے وقوف بنایا جاتا ہے اور نامناسب مواد پیش کرکے بھی۔ نقلی ایپس 7 لاکھ مسترد کی گئی ایپس میں سے ڈھائی لاکھ ہیں۔ ممکنہ ضرر رساں ایپس کی تعداد کم ہے۔ گوگل پلے پروٹیکٹ کی وجہ سے گزشتہ سال میں ایسی ایپس کے انسٹال کرنے میں 50 فیصد کمی آئی۔

تبصرے
لوڈنگ۔۔۔۔
error: اس ویب سائٹ پر شائع شدہ تمام مواد کے قانونی حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں