اردو زبان میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کا مستند جریدہ

اب دور شروع ہوگا بجلی سے چلنے والے ہوائی جہازوں کا

583

بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کا معاملہ اب کافی سنجیدہ ہو چکا ہے بلکہ اب یہ دنیا بھر میں سڑکوں پر دوڑتی ہوئی بھی نظر آ رہی ہیں لیکن ٹرانسپورٹ کا ایک شعبہ ایسا ہے جہاں ہونے والی پیشرفت منظر عام پر نہیں ہے، ٹیکنالوجی یہی ہوگی ، صرف سواری تبدیل ہوگی، یعنی ہوائی جہاز!

اس وقت درجن بھر ایسے ہوائی جہاز زیر تکمیل ہیں جو بجلی سے چلیں گے اور چند تو ایسے ہیں جو بہت جلد پرواز بھرتے نظر آئیں گے۔ لیکن ہمیں ایک برقی مسافر جہاز پانے میں کتنا وقت لگ سکتا ہے؟ یہ اندازہ تب ہوگا جب ہم موجودہ پیشرفت پر غور کریں۔

اس وقت برقی جہازوں کے جتنے بھی منصوبے ہیں، سب چھوٹے جہازوں پر کام کر رہے ہیں، جن میں ایک سے دو افراد کی گنجائش ہوگی۔ ایک تو پیپسٹریل کا Alpha Electro ہے جو دو نشستوں کا طیارہ ہے جبکہ ناسا کے Maxwell میں بھی دو نشستیں ہی ہوں گی۔ چین بھی اس دوڑ میں پیچھے نہیں جس نے رواں ماہ کے اوائل میں بجلی سے چلنے والے ایک طیارے کی پہلی پرواز کی تھی۔ یہ بھی دو نشستوں کا حامل جہاز تھا اور دو گھنٹے تک فضاء میں موجود رہا۔

بلاشبہ کچھ نسبتاً بڑے طیارے بھی ہیں جیسا کہ Eviation، جس میں چھ سے نو افراد سوار ہو سکتے ہیں اور یہ 2020ء تک مکمل ہو جائے گا۔ پھر جرمن انسٹیٹیوٹ آف ایئر کرافٹ ڈیزائن کا E-Genius ہے، جو چھوٹے سائز کے برقی طیاروں میں ایک نمایاں اضافہ ہے۔

لیکن بڑے طیاروں کے حوالے سے کیا پیشرفت ہے؟ اس وقت متعددایسے طیارے زیر تکمیل ہیں۔ رواں سال کے اوائل میں Wright Electric نامی ایک ادارے نے اعلان کیا تھا کہ وہ ایسا برقی طیارہ بنا رہا ہے جو 150 افرادکو لے کر 300 میل تک کی پرواز کرے گا۔ اس رینج کے ساتھ یہ طیارہ عالمی کمرشل پروازوں کے بڑے حصے کا احاطہ کر سکتا ہے یعنی جیٹ فیول میں بہت بڑی بچت ممکن ہے۔ ستمبر میں ایزی جیٹ نے رائٹ الیکٹرک کے ساتھ شراکت داری کا اعلان بھی کیا تھا تاکہ اگلے 10 سالوں میں برقی طیاروں کی پرواز ممکن بنائی جا سکے۔ ان طیاروں کے بارے میں رائٹ الیکٹرک کا کہنا ہے کہ یہ روایتی ہوائی جہازوں کے مقابلے میں 50 فیصد سے زیادہ خاموش ہوں گے اور خریداری میں اور چلانے میں بھی 10 فیصد سستے پڑیں گے۔

رائٹ الیکٹرک اب تک دو نشستوں پروٹوٹائپ مکمل کر چکا ہے یعنی 150 نشستوں تک پہنچنے کے لیے ابھی بہت طویل سفر باقی ہے۔

تحریر جاری ہے۔ یہ بھی پڑھیں

اس میدان میں موجود اداروں کو جو سب سے بڑا چیلنج درپیش ہے وہ بیٹری کا ہے۔ مثال کے طور پر Eviation طیارہ 6 ہزار پاؤنڈ کی بیٹریوں کے ساتھ کام کرتا ہے اور اس میں مسافر بھی چھ سے نو ہی ہوں گے۔ اب اندازہ لگا لیجیے کہ 150 نشستوں کے طیارے کے لیے کیا کیا پاپڑ بیلنے پڑیں گے۔

بلاشبہ ٹیکنالوجی دن بدن ترقی کر رہی ہے۔ لیتھیئم آئیون بیٹریوں کی لاگت کم ہو رہی ہے اور یہ پہلےسے کہیں زیادہ موثر بھی ہیں۔ اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ مستقبل میں بیٹریاں اتنی ہلکی ہو جائیں گی اور سستی بھی کہ برقی جہاز بنانا اور اسے چلانا ممکن ہوگا۔

لیکن جب تک ایسا ممکن ہو، تب تک ان اداروں کو برقی کاروں کی صنعت کے نقش قدم پر چلنا ہوگا یعنی پہلے ہائبرڈ جہاز، پھر مکمل برقی!

ہائبرڈ ہوائی جہازوں کے حوالے سے اس وقت دو اہم اعلانات ہیں، ایک Zunum Aero نے کیا ہے جو امریکاکے شہر سیاٹل میں قائم ایک اسٹارٹ اپ ہے۔ یہ 12 نشستوں کا حامل ایسا طیارہ بنا رہا ہے جو 700 میل تک پرواز کر سکتا ہے اور اس کا نیا پروپلژن سسٹم 80 فیصد کم اخراج رکھتا ہے یعنی مکمل طور پر ماحول دوست ہے۔ دوسرا رولس رائس، سیمنز اور ایئربس کا منصوبہ ہے جو ایسے مسافر طیارے پر کام کر رہے ہیں جو 100 نشستیں رکھے گا اور دو میگاواٹ کے پاور پلانٹ سے توانائی حاصل کرے گا۔

یعنی ابھی کچھ وقت لگے گا لیکن جلد ہی برقی طیارے ایک،ایک کرکے سامنے آتے جائیں گے۔ بلاشبہ برقی جہاز بنانے میں ان چیلنجز کا سامنا ہوگا جو برقی کاروں کی صنعت کو درپیش نہیں تھے، لیکن جس تیزی سے اس صنعت میں کام جاری ہے، لگتا ہے بہت جلد ہمیں ایسے ہوائی جہاز عام پرواز کرتے نظر آئیں گے۔ یعنی فضائی نقل و حمل کی دنیا میں ایک انقلاب برپا ہونے والا ہے۔

تبصرے
لوڈنگ۔۔۔۔
error: اس ویب سائٹ پر شائع شدہ تمام مواد کے قانونی حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں