جی میل کو اگر نمبرون ای میل سروس کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ اپنی بے مثال سروسز کے ساتھ اس کا مفت دستیاب ہونا اس کی مقبولیت کی ایک بہت بڑی وجہ ہے۔ اگر آپ جی میل کی ایک جیسی شکل و صورت سے بور ہو چکے ہیں تو فائر فوکس کے ایکسٹینشن Google Redesigned سے اسے ایک منفرد اور بے حد خوبصورت انداز دے سکتے ہیں۔
اس ایکسٹینشن کو فائر فوکس کے لیے Globex Designs نے ڈیزائن کیا ہے تاکہ جی میل کی خوبصورتی میں اضافہ کر کے اس سروس کی مقبولیت میں اضافہ کیا جا سکے۔

مکمل مضمون پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

پیج رینک ایک الگورتھم یا پروگرام ہے جسے اسٹین فورڈ یونیورسٹی میں لیری پیج (Larry Page) نے تخلیق کیا (اور اسی کے نام پر اس الگورتھم کو ”پیج رینک“ کہا گیا)۔ بعد میں سرگی برن (Sergey Brin) بھی اس تحقیقی منصوبے کا حصہ بنے جو ایک نئی قسم کے سرچ انجن کے بارے میں تھا۔ یہ منصوبہ 1995ءمیں شروع ہوا اور 1998ءمیں ”گوگل“ کے نام سے پیش ہوا۔ بعد ازاں جلد ہی پیج اور برن نے گوگل انکارپوریٹیڈ کی بنیاد ڈالی۔

گوگل سرچ اس وقت تمام سرچ انجن میں سر فہرست ہے۔ مانا جاتا ہے کہ سرچنگ میں گوگل کا حصہ پچاس فیصد ہے یعنی انٹرنیٹ کی دنیا میں تلاش کیا جانے والا ہر دوسرا لفظ گوگل پر لکھا جاتا ہے۔ گوگل سرچ میں کئی عوامل کار فرما ہوتے ہیں جن میں پیج رینک کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ پیج رینک گوگل کا ٹریڈ مارک ہے اور اسٹین فورڈ یونیورسٹی کے نام پر پیٹنٹ ہے۔

مکمل مضمون پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

انٹرنیٹ پر آپ جب بھی کوئی نیا ای میل اکاؤنٹ یا کسی بھی طرح کا کوئی اکاؤنٹ بنانے جاتے ہیں، کیپچا (Captcha﴿ سے آپ کا واسطہ ضرور پڑتا ہے۔ یہ آڑھے ٹیڑھے حروف پر مشتمل ایک تصویر ہوتی ہے جسے پڑھ کر دیئے ہوئے باکس میں لکھنا ہوتا ہے۔ اس کا مقصد یہ معلوم کرنا ہوتا ہے کہ آیا رجسٹریشن کرانے والا انسان ہی ہے یا کوئی سافٹ ویئر بوٹ۔ کسی سافٹ ویئر بوٹ کے لئے اس تصویر میں لکھے ہوئے حروف کر پڑھنا ازحد مشکل ہے۔ لیکن انسان چند سیکنڈز میں یہ الفاظ شناخت کرسکتا ہے۔ کیپچا تصویر کو مشکل تربنانے کے لئے اس پر ٹیکسچر ﴿Texture﴿ اور لائنیں لگادیا جاتا ہے۔ اس طرح سافٹ ویئر بوٹ کے لئے آپٹیکل کریکٹر ریکگنائزر کا استعمال بھی ممکن نہیں رہتا۔ آپٹیکل کریکٹر ریکگنیشن کے عمل میں تصاویر کو ایک خصوصی الگارتھم کے ذریعے اسکین کیا جاتا ہے اور تصویر میں سے متن کو اخذ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ سادہ کیپچا کو او سی آر کے ذریعے پہچانا جاسکتا ہے۔ اسی لئے اب کیپچا کو ممکنہ حد تک پیچیدہ بنایا جاتا ہے۔

ایک اندازے کے مطابق ہر روز انٹرنیٹ پر ساٹھ لاکھ کیپچا حل کئے جاتے ہیں، یعنی لوگ کیپچا دیکھ کر ان کو پہچاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایک کیپچا پہچاننے میں عام انسان اوسطاً دس سیکنڈ کا وقت صرف کرتا ہے انفرادی طور پر یہ وقت یقیناً معمولی ہے لیکن دنیا بھر میں مجموعی طور پر ہر دن ایک لاکھ پچاس ہزار گھنٹے اس کام میں خرچ ہوجاتے ہیں۔ یہ یقیناً وقت ایک ہی بہت ہی بڑی مقدار ہے جو ایک تقریباً فضول کام میں ضائع ہوجاتی ہے۔ ری کیپچا اسی ضائع ہونے والے وقت کا مثبت استعمال کرنے کا ایک طریقہ ہے۔

مکمل مضمون پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

صرف اَن پڑھی ہوئی ای میل

بعض اوقات آپ کو اتنی تواتر سے ای میل پیغامات موصول ہوتے ہیں کہ بہت سے ای میلز آپ بغیر پڑھے ہی چھوڑ دیتے ہیں۔ ہمارے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی معاملہ ہے۔ لیکن اگر بعد میں ای میلز کو پڑھنے کی ضرورت پیش آجائے تو بڑی مشکل ہوجاتی ہے۔ جی میل میں آپ نے دیکھا ہوگا کہ ایسی ای میلز تلاش کرنے کے لئے بظاہر کوئی سہولت نظر نہیں آتی۔ لیکن جناب ایسا بالکل نہیں ہے۔ اگر آپ سرچ باکس میں
label:inbox is:unread
لکھ کر اینٹر کریں تو ان باکس میں موجود تمام ان پڑھی ہوئی ای میلز آپ کو دِکھا دی جائیں گی۔ اسی طرح اگر آپ ان باکس کے بجائے کسی اور لیبل (یا فولڈر) میں ایسی ای میل تلاش کرنا چاہ رہے ہیں تو label:کے بعد اس لیبل کا نام لکھ دیں۔

ایک خاص ای میل کی تلاش

آپ کے باس نے آپ کو لگ بھگ ایک سال پہلے جوےءپی ڈی ایف فائل ای میل کی تھی۔ اب آپ کو وہ ای میل تلاش کرنی ہے …. جبکہ اس ای میل کے بعد آپ کو باس کی جانب سے سینکڑوں ای میلز موصول ہوچکی ہیں۔ پریشانی کی بات تو ہے….!
لیکن اس بڑی پریشانی کا ایک آسان حل ہے۔ آپ اس مخصوص ای میل کے بارے میں کچھ مفید باتیں جانتے ہیں۔ جیسے اس کے ساتھ پی ڈی ایف فائل منسلک تھی اور ای میل ایک سال پہلے ارسال کی گئی تھی۔ اس معلومات کو مدنظر رکھتے ہوئے آپ جی میل کی سرچ بار میں مندرجہ ذیل کیوری لکھیں:
from:Name filename:pdf after:2007/04/01
اس کیوری میں آپ Nameکی جگہ آپ اپنے باس کا نام یا ان کا ای میل ایڈریس تحریر کریں گے اور after کے بعد وہ تاریخ لکھیں گے جس کے بعد ہی آپ کو ای میل موصول ہوئی تھی۔ یاد رہے کہ تاریخ کا فارمیٹ YYYY/MM/DDہوگا۔

مکمل مضمون پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

ونڈوز سرور 2008 ، مائیکروسافٹ کی سرور سیریز کا تازہ ترین آپریٹنگ سسٹم ہے جسے مائیکروسافٹ ونڈوز 2003 سرور کے اجراءکے پانچ سال بعد جاری کیا گیا ہے۔ 27 فروری 2008ءکو جاری ہونے والے اس آپریٹنگ سسٹم کی اہمیت عام صارفین کے لئے نہیں بلکہ نیٹ ورکس اور سرورز سے منسلک افراد کے لئے ہے۔ یہ آپریٹنگ سسٹم 32 بِٹ اور 64 بِٹ انٹل اور اے ایم ڈی سنگل اور ملٹی کور پروسیسرز پر چلنے کے لئے تیار کیا گیا ہے۔ ونڈوز سرور کا یہ ورژن انسٹالیشن میں سبک رفتار اور سنبھالنے میں انتہائی سہل ہے۔ استعمال کے دوران اس کی ہیئت ونڈوز وستا جیسی محسوس ہوتی ہے اس کی وجہ اس کا ونڈوز وستا کے کوڈ بیس (Code Base) پر مبنی ہونا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی بیشتر خصوصیات اور سہولیات ونڈوز وستا سے ملتی جلتی ہیں۔
ابتداءمیں اسے ونڈوز سرور لانگ ہارن کے کوڈ نیم سے پکارا جاتا تھا۔ تاہم 16 مئی 2007ءکو ہونے والی WinHEC میں بل گیٹس نے اس کے اصل نام ”ونڈوز سرور 2008“ کا اعلان کیا۔ اپنی فائنل ریلیز سے پہلے مختلف مواقع پر اس کے کئی بی ٹا اور آزمائشی ورژن جاری کئے جاتے رہے ہیں۔

مکمل مضمون پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں


© 2008 ماہنامہ کمپیوٹنگ   |  57پریس چیمبرز آئی آئی چند ریگر روڈ، کراچی