
تازہ ترین: مائیکروسافٹ نے انٹرنیٹ ایکسپلورر 9 ریلیز کردیا ہے۔ تاہم عام عوام کے ڈاؤن لوڈنگ کے لئے یہ کل یعنی پندرہ مارچ کو ہی دستیاب ہوسکے گا۔
مائیکرو سافٹ نے اپنے براؤزر انٹرنیٹ ایکسپلورر کے نئے ورژن 9 کو ریلیز کرنے کا باقاعدہ پروگرام مرتب کر لیا ہے۔ یہ نیا ورژن 14 مارچ، بروز پیر رات نو بجے ڈاؤن لوڈنگ کے لیے دستیاب ہو گا۔ جبکہ اس براؤزر کے ڈیزائنرز اور ڈیویلپرز کے لیے ایک دعوت کا انتظام بھی اسی ٹائم پر آسٹن سٹی میں کیا گیا ہے۔ دعوت کو مزید پرکشش بنانے کے لیے تین بینڈز کو بھی مدعو کیا جائے گا۔
انٹرنیٹ ایکسپلورر کے کارپوریٹ پریزیڈنٹ Dean Hachamovitch نے ٹیسٹنگ کمیونٹی کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا ہے جنھوں نے اس براؤزر کے بی ٹا ورژن کو استعمال کرتے ہوئے اپنے سترہ ہزار مشوروں اور آرا سے نوازا ہے۔
انٹرنیٹ ایکسپلورر 9 کئی نئے فیچرز کے ساتھ اپنے صارفین کا دل جیتنے کے لیے تیار ہے۔ اس کے ٹاپ ٹین فیچرز کے بارے میں جاننے کے لیے وزٹ کیجیے:
http://redmondmag.com/articles/2011/01/02/top-10-ie-9.aspx
کینسر کی شناخت کے لئے مریض کے کئی ٹیسٹ کئے جاتے ہیں اور مرض کی مکمل شناخت میں کئی دن لگ جاتے ہیں۔ لیکن اب میساچیوسٹ جنرل اسپتال اور ہارورڈ میڈ یکل اسکول کے سائنسدانوں نے ایک ایسا ہینڈ ہیلڈ ڈیوائس تیار کیا ہے جو کینسر جیسے موزی مرض کی شناخت صرف ایک گھنٹے میں کرسکتا ہے۔ یہ ایک پورٹبل ڈیوائس ہے جسے اسمارٹ فون کے ساتھ جوڑا جاسکتا ہے۔
یہ ڈیوائس بافتوں کا ایک چھوڑا سا نمونہ لیکر انتہائی برق رفتاری سے ان میں کینسر کا باعث بننے والی پروٹینز کی جانچ کرنا شروع کردیتا ہے۔ اس ڈیوائس کا پروٹوٹائب جب گیسٹرک کینسر کے پچاس مختلف مریضوں کی جانچ کے لئے استعمال کیا گیا تو نتائج حیرت انگیز حد تک درست تھے۔ اس کی جانچ 96 فیصد تک درست تھی جو کسی بھِی موجود کلینکل لیبارٹری کی ٹشو سیمپلنگ ٹیسٹ سے زیادہ ہے۔
مکمل مضمون پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں
سامسنگ کے محقیقین نے دنیا کا پہلا مکمل رنگین ڈسپلے تیار کر لی ہے جو کوانٹم ڈاٹس کا استعمال کرتی ہے۔ کوانٹم ڈاٹس ڈسپلے آج کل استعمال ہونے والے موبائل فونز ہر ایم پی تھری پلئیرز کی ڈسپلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ روشن، سستی اور کم توانائی استعمال کرتی ہیں۔
سام سنگ کی تیار کردہ اس چار انچ کی ڈسپلے کو کنٹرول کرنے کے لئے ایک ایکٹیو میٹرکس استعمال کی گئی ہے جس کا مطلب ہے کہ ہر رنگین کوانٹم ڈاٹ پکسل کو آن یا آف کرنے کے لئے ایک ٹرانسسٹر استعمال کیا جاتا ہے۔ محقیقین نے اس ڈسپلے کے پروٹوٹائپ کو گلاس کے ساتھ ساتھ لچکدار پلاسٹنک سے بھی بنایا ہے۔ سام سنگ ایڈوائنس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے جونگ من کم کے مطابق “ہم نے ایک سائنسی چیلنج کو تیکنیکی کامیابی میں بدل دیا ہے۔”
مکمل مضمون پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں
مائیکروسافٹ کارپوریشن نے ری ٹیلرز اور OEMs کو ونڈوز ایکس پی کی فروخت بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مائیکروسافٹ کے اس فیصلے کے خلاف ان لوگوں کی جانب سے تنقید کی جارہی ہے جو زبردستی ونڈوز وستا استعمال کرنے پر مجبور نہیں ہونا چاہتے۔ تاہم مائیکروسافٹ کا کہنا ہے کہ وہ اگلے سال جنوری تک کچھ سستے کمپیوٹرز جن میں انٹل کلاس میٹ وغیرہ شامل ہیں، کے لئے ونڈوز ایکس پی فروخت کرتا رہے گا۔ مائیکروسافٹ نے حال ہی میں ونڈوز ایکس پی کے لئے سروس پیک تھری جاری کیا ہے جس کے بعد ماہرین کا خیال ہے کہ ونڈوز ایکس پی اگلے دو سال تک کارآمد رہے گی۔
مائیکروسافٹ ونڈوز ایکس پی کا شمار مائیکروسافٹ کے مقبول ترین آپریٹنگ سسٹمز میں ہوتا ہے۔ ہزاروں کمپیوٹر فروخت کرنے والے ادارے ونڈوز وستا کی موجودگی میں اب بھی اپنے کمپیوٹرز کے ساتھ ونڈوز ایکس پی ہی فراہم کرتے ہیں۔ یہ مائیکروسافٹ کا واحد آپریٹنگ سسٹم بھی ہے جس کی ریلیز کے بعد طویل عرصے تک کوئی دوسرا آپریٹنگ سسٹم جاری نہیں کیا گیا۔ ونڈوز وستا جسے پچھلے سال فروری میں جاری کیا گیا تھا اب تک ونڈوز ایکس پی کے صارفین کی بھرپور توجہ حاصل نہیں کرسکی۔ اس کی ایک بڑی وجہ ونڈوز وستا کا پرانے سافٹ ویئر اور پرانے ہارڈویئر کے لئے رویہ ہے۔ اب جب کہ مائیکروسافٹ کی جانب سے ونڈوز 7 کی تیاریاں بھی عروج پر ہیں، ونڈوز وستا کا مستقبل تاریک نظر آتا ہے۔
مکمل مضمون پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں
انٹل کے محققین نے ایک ٹیسٹ چپ تیار کی ہے جو مکمل طور پر سلی کون سے بنائی گئی ہے۔ یقینا یہ بات انوکھی نہیں کیوں کہ بیشتر مائیکرو چپس سلی کون سے ہی بنائی جاتی ہیں۔ لیکن اس چپ کی خاص بات ہے کہ یہ 200 گیگا بٹس ڈیٹا ایک سکینڈ میںروشنی کی لہروں پر encode کرسکتی ہے۔ موجودہ آپٹیکل نیٹ ورکس میں استعمال کی جانے والی تیز ترین آپٹیکل چپ 100 گیگا بٹس فی سکینڈ کی رفتار پر کام کرتی ہے۔ لیکن یہ چپس سلی کون سے تیار نہیں کی جاتیں اور انتہائی مہنگی ہوتی ہیں۔ یہ خامی سلی کون سے تیار کردہ اس چپ میں نہیں ہے۔
سلی کون الیکٹرانک انڈسٹری میں ہمیشہ سے اولین انتخاب رہا ہے۔ لیکن ماضی میں فوٹونک انڈسٹری میں اسے نظر انداز کیا جاتا رہا ہے کیونکہ اس کی بصری خصوصیات دوسرے سیمی کنڈکٹرز کے مقابلے میں مختلف ہیں۔ سلی کون دوسرے سیمی کنڈکٹرز جیسے انڈیم فاسفیڈ یا گیلیئم آرسنائیڈ کے مقابلے میں فوٹونز پیدا کرتا ہے نہ شناخت۔ لیکن گزشتہ چند سالوں کے دوران آپٹیکل انجینئرنگ کے ماہرین نے سلی کون پر ایک بار پھر نظر ڈالی ہے اور کمال مہارت سے اس کی کچھ بصری خصوصیات میں تبدیلی پیدا کی ہے۔
مکمل مضمون پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں
انٹرنیٹ سرچ انجنز کے بغیر یقینا ادھورا ہے۔ گوگل اور یاہو! آپ کی مطلوبہ معلومات سیکنڈز میں لاکر آپ کو پیش کردیتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود یہ بات انوکھی ہی ہے کہ اب بھی معلومات کی ایک بڑی تعداد ان سرچ انجنز کی رسائی میں نہیں ہے یا پھر اسے سرچ ریزلٹس میں دکھانا ممکن نہیں۔ یہ معلومات فلیش کی فائلوں میں موجود ہے جنھیں پڑھنا سرچ انجنز کے لئے ممکن نہیں اور نہ ہی وہ انہیں سرچ ریزلٹس میں دکھا پاتے ہیں۔ تاہم اب شاید یہ خرابی بھی دور ہوجائے کیونکہ ایڈوب نے ایک انقلابی قدم اٹھاتے ہوئے ان سرچ انجنز کو ایک خاص فلیش اینی میشن پلیئر فراہم کیا ہے جو فلیش اینی میشن میں موجود متن اور روابط کو پڑھ سکتا ہے۔ اس سے پہلے ویب ڈیویلپرز کو ظاہری طور پر خوبصورت یا پھر سرچ انجنز میں اچھے رینک کی حامل ویب سائٹ ، ان دونوں میں سے کسی ایک خوبی کو چننا ہوتا تھا۔ لیکن اب یہ دونوں خوبیاں ایک ساتھ استعمال کی جاسکتی ہیں۔
مکمل مضمون پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں
حال ہی میں سافٹ ویئر اور ہارڈویئر بنانے والے اداروں کی جانب سے مشترکہ طور پر ایک سکیوریٹی پیچ جاری کیا گیا ہے جس کا مقصد ڈومین نیم سسٹم میں موجود ایک انتہائی سنجیدہ نوعیت کے مسئلے پر قابو پانا تھا۔ کمپیوٹر کی تاریخ میں یہ پہلا واقعہ ہے جب مشترکہ طور پر ایک ہی مسئلے کے لئے کئی کمپنیوں نے سکیوریٹی پیچز جاری کئے ہوں۔
سافٹ ویئر اور ہارڈویئر بنانے والی کمپنیوں اور سکیوریٹی ماہرین کا خیال ہے کہ اس مشترکہ کوشش سے زیادہ تر سسٹم ڈومین نیم سسٹم میں دریافت ہونے والی نئی خرابی سے پاک ہوجائیں گے۔ یاد رہے کہ اس خرابی کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ اس کے ذریعے حملہ آور پورے انٹرنیٹ پر قابو پاسکتے ہیں۔
اس سال جنوری میں ڈین کیمن اسکائی نے ڈومین نیم سسٹم جسے انٹرنیٹ کے جثے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے، ایک سنجیدہ نوعیت کی خرابی کا پتا چلایا۔ ڈومین نیم سسٹم ہی آپ کو مختلف ویب سائٹس براﺅز کرنے کے لئے ان کے سرور تک رسائی فراہم کرتا ہے۔ جب آپ کسی ویب سائٹ کا یو آر ایل ویب براﺅزر میں لکھتے ہیں تو ویب براﺅزر آپ کے آئی ایس پی کے ڈی این ایس سرور سے درخواست کرتا ہے کہ اس یو آر ایل سے منصوب سرور کا آئی پی ایڈریس فراہم کیا جائے۔ اگر آئی پی ایڈریس مل جاتا ہے تو ویب براﺅزر اس آئی پی ایڈریس کی مدد سے اس سرور سے کنکٹ ہوکر آپ کو ویب سائٹ دکھاتا ہے۔ مثلاً جب آپ کمپیوٹنگ فورمز کا یو آر ایل www.computingpk.com ویب براﺅزر میں لکھ کر اینٹر کرتے ہیں تو آپ کابراﺅزر ڈی این ایس سرور سے آئی پی ایڈریس کے لئے درخواست کرتا ہے جو اسے 74.86.61.36مہیا کی جاتی ہے۔ یہی وہ سرور ہے جس پر کمپیوٹنگ فورمز ہوسٹ ہیں۔ اب آپ کا براﺅزر اس آئی پی کے ذریعے کمپیوٹنگ فورمز کے سرور سے کنکٹ ہوجاتا ہے۔
مکمل مضمون پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں