IE 9

تازہ ترین: مائیکروسافٹ نے انٹرنیٹ ایکسپلورر 9 ریلیز کردیا ہے۔ تاہم عام عوام کے ڈاؤن لوڈنگ کے لئے یہ کل یعنی پندرہ مارچ کو ہی دستیاب ہوسکے گا۔

مائیکرو سافٹ نے اپنے براؤزر انٹرنیٹ ایکسپلورر کے نئے ورژن 9 کو ریلیز کرنے کا باقاعدہ پروگرام مرتب کر لیا ہے۔ یہ نیا ورژن 14 مارچ، بروز پیر رات نو بجے ڈاؤن لوڈنگ کے لیے دستیاب ہو گا۔ جبکہ اس براؤزر کے ڈیزائنرز اور ڈیویلپرز کے لیے ایک دعوت کا انتظام بھی اسی ٹائم پر آسٹن سٹی میں کیا گیا ہے۔ دعوت کو مزید پرکشش بنانے کے لیے تین بینڈز کو بھی مدعو کیا جائے گا۔
انٹرنیٹ ایکسپلورر کے کارپوریٹ پریزیڈنٹ Dean Hachamovitch نے ٹیسٹنگ کمیونٹی کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا ہے جنھوں نے اس براؤزر کے بی ٹا ورژن کو استعمال کرتے ہوئے اپنے سترہ ہزار مشوروں اور آرا سے نوازا ہے۔
انٹرنیٹ ایکسپلورر 9 کئی نئے فیچرز کے ساتھ اپنے صارفین کا دل جیتنے کے لیے تیار ہے۔ اس کے ٹاپ ٹین فیچرز کے بارے میں جاننے کے لیے وزٹ کیجیے:
http://redmondmag.com/articles/2011/01/02/top-10-ie-9.aspx

Windows 7 Themesونڈوز سیون کی انسٹالیشن کے دوران سیٹ اپ آپ سے زبان، وقت اور کرنسی منتخب کرنے کو کہتا ہے۔ اسی انتخاب کی بنیاد پر یہ کچھ وال پیپر اور تھیم انسٹال کردیتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر آپ انسٹالیشن کے دوران English United States منتخب کرتے ہیں تو انسٹال ہونے والے وال پیپرز اور تھیم امریکہ سے متعلق ہوتے ہیں۔ جیسے اگر آپ وال پیپر تبدیل کرنا چاہیں تو آپ کو صرف امریکہ سے متعلق خوبصورت تصاویر نظر آتی ہیں۔
اسی طرح آسٹریلیا، کینیڈا، برطانیہ اور ساوتھ افریقہ کے لئے بھی تھیم اور وال پیپر موجود ہیں لیکن اگر آپ نے امریکن انگلش منتخب کررکھی ہو تو یہ آپ کو نظر نہیں آتے۔ لیکن ایک ایسی ترکیب موجود ہے جس کی مدد سے آپ انہیں انسٹال اور استعمال کرسکتے ہیں۔
سب سے پہلے اسٹارٹ مینو میں سے سرچ باکس منتخب کریں اور اس میں لکھیں:

C:\Windows\Globalization\MCT

اس طرح ایک فولڈر ونڈوز ایکسپلورر میں کھل جائے گا جس میں آپ کو کئی فولڈرز نظر آئیں گے جیسے:

MCT-AU, MCT-CA, MCT-GB, MCT-US, اور MCT-ZA
ان میں سے ہر فولڈر میں مختلف ممالک کے حوالے سے تھیم اور وال پیپرز موجود ہیں۔ مثلا MCT-GB میں برطانیہ، MCT-CA میں کینیڈا کے حوالے سے تھیم و وال پیپر موجود ہیں۔ آپ کو جس ملک کا تھیم انسٹال کرنا ہو، اس کے فولڈر میں جائیں اور Theme پر ڈبل کلک کریں۔ Theme کے فولڈر میں آپ کو ایک ہی فائل نظر آئے گی۔ آپ اس فائل پر ڈبل کلک کریں گے تو یہ آپ کے کمپیوٹر میں انسٹال ہوجائے گی اور یہ تھیم آپ کو Personalization میں نظر آنے لگے گا۔ ڈیسک ٹاپ کو Personalize کرے کے لئے ڈیسک ٹاپ پر کہیں بھی خالی جگہ پر رائٹ کلک کریں اور Personalize منتخب کریں۔

کینسر کی شناخت کے لئے مریض کے کئی ٹیسٹ کئے جاتے ہیں اور مرض کی مکمل شناخت میں کئی دن لگ جاتے ہیں۔ لیکن اب میساچیوسٹ جنرل اسپتال اور ہارورڈ میڈ یکل اسکول کے سائنسدانوں نے ایک ایسا ہینڈ ہیلڈ ڈیوائس تیار کیا ہے جو کینسر جیسے موزی مرض کی شناخت صرف ایک گھنٹے میں کرسکتا ہے۔  یہ ایک پورٹبل ڈیوائس ہے جسے اسمارٹ فون کے ساتھ جوڑا جاسکتا ہے۔

یہ ڈیوائس بافتوں کا ایک چھوڑا سا نمونہ لیکر انتہائی برق رفتاری سے ان میں کینسر کا باعث بننے والی پروٹینز کی جانچ کرنا شروع کردیتا ہے۔ اس ڈیوائس کا پروٹوٹائب جب گیسٹرک کینسر کے  پچاس مختلف مریضوں کی جانچ کے لئے استعمال کیا گیا تو نتائج حیرت انگیز حد تک درست تھے۔ اس کی جانچ 96 فیصد تک درست تھی جو کسی بھِی موجود کلینکل لیبارٹری کی ٹشو سیمپلنگ ٹیسٹ سے زیادہ ہے۔

مکمل مضمون پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

سامسنگ کے محقیقین نے دنیا کا پہلا مکمل رنگین ڈسپلے تیار کر لی ہے  جو کوانٹم ڈاٹس کا استعمال کرتی ہے۔ کوانٹم ڈاٹس ڈسپلے آج کل استعمال ہونے والے موبائل فونز ہر ایم پی تھری پلئیرز کی ڈسپلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ روشن، سستی اور کم توانائی استعمال کرتی ہیں۔

سام سنگ کی تیار کردہ اس چار انچ کی ڈسپلے کو کنٹرول کرنے کے لئے ایک ایکٹیو میٹرکس استعمال کی گئی ہے جس کا مطلب ہے کہ ہر رنگین کوانٹم ڈاٹ پکسل کو  آن یا آف کرنے کے لئے ایک ٹرانسسٹر استعمال کیا جاتا ہے۔ محقیقین نے اس ڈسپلے کے پروٹوٹائپ کو گلاس کے ساتھ ساتھ لچکدار پلاسٹنک سے بھی بنایا ہے۔ سام سنگ ایڈوائنس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے جونگ من کم کے مطابق “ہم نے ایک سائنسی چیلنج کو تیکنیکی کامیابی میں بدل دیا ہے۔”

مکمل مضمون پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

وائرسز ایسے مہمان ہیں جنھیں دعوت دینے کی کوئی ضرورت نہیں پڑتی۔ بعض اوقات تو یہ سرپرائز دینے کے لیے اچانک ہی ٹپک پڑتے ہیں اور ان کی موجودگی کا علم ہوتے ہی ہمارے ہاتھوں کے نیچے سے کی بورڈ اُڑ جاتا ہے۔ کیونکہ یہ آتے ہی اپنے کارنامے دکھانا شروع کر دیتے ہیں۔ آج کل جو وائرسز مارکیٹ میں عام دستیاب ہیں ان کے گورنر راج نافذ کرتے ہی ٹاسک منیجر، رجسٹری ایڈیٹر، پوشیدہ فائلز اور اسٹارٹ اپ وغیرہ پر ہمارا کوئی اختیار نہیں رہتا۔ حتیٰ کہ ہمارا چوکیدار یعنی اینٹی وائرس بھی منہ دیکھتا رہ جاتا ہے اور یہ اپنا کام کر جاتے ہیں۔

مکمل مضمون پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

جی میل ایک بہترین اور مفت دستیاب ای میل سروس ہے۔ گزشتہ پوسٹ میں ہم نے اس کے لیے موجود ایک بہت ہی خوبصورت تھیم کا تعارف پیش کیا تھا۔ اس بار ہم جی میل کے لیے دستیاب فائر فوکس کے ایک ایسے ایکسٹینشن کا تعارف کرانے جا رہے ہیں جس کی موجودگی سے جی میل میں محسوس ہونے والی ایک بہت بڑی کمی باقی نہیں رہتی۔

جی ہاں Blank Canvas Gmail signatures نامی یہ ایکسٹینشن جی میل میں ایچ ٹی ایم ایل سگنیچرز شامل کرنے کی سہولت دیتا ہے۔ ویسے تو جی میل میں سگنیچرز شامل کرنے کی سہولت موجود ہوتی ہے لیکن اس میں ایچ ٹی ایم ایل کی سہولت نہیں ہے۔ اس ایکسٹینشن کی مدد سے آپ باآسانی ایچ ٹی ایم ایل کوڈز شامل کر سکتے ہیں۔ اس طرح سگنیچرز میں تصویر شامل کرنا بھی ممکن ہو جاتا ہے۔

مکمل مضمون پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

جی میل کو اگر نمبرون ای میل سروس کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ اپنی بے مثال سروسز کے ساتھ اس کا مفت دستیاب ہونا اس کی مقبولیت کی ایک بہت بڑی وجہ ہے۔ اگر آپ جی میل کی ایک جیسی شکل و صورت سے بور ہو چکے ہیں تو فائر فوکس کے ایکسٹینشن Google Redesigned سے اسے ایک منفرد اور بے حد خوبصورت انداز دے سکتے ہیں۔
اس ایکسٹینشن کو فائر فوکس کے لیے Globex Designs نے ڈیزائن کیا ہے تاکہ جی میل کی خوبصورتی میں اضافہ کر کے اس سروس کی مقبولیت میں اضافہ کیا جا سکے۔

مکمل مضمون پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

پیج رینک ایک الگورتھم یا پروگرام ہے جسے اسٹین فورڈ یونیورسٹی میں لیری پیج (Larry Page) نے تخلیق کیا (اور اسی کے نام پر اس الگورتھم کو ”پیج رینک“ کہا گیا)۔ بعد میں سرگی برن (Sergey Brin) بھی اس تحقیقی منصوبے کا حصہ بنے جو ایک نئی قسم کے سرچ انجن کے بارے میں تھا۔ یہ منصوبہ 1995ءمیں شروع ہوا اور 1998ءمیں ”گوگل“ کے نام سے پیش ہوا۔ بعد ازاں جلد ہی پیج اور برن نے گوگل انکارپوریٹیڈ کی بنیاد ڈالی۔

گوگل سرچ اس وقت تمام سرچ انجن میں سر فہرست ہے۔ مانا جاتا ہے کہ سرچنگ میں گوگل کا حصہ پچاس فیصد ہے یعنی انٹرنیٹ کی دنیا میں تلاش کیا جانے والا ہر دوسرا لفظ گوگل پر لکھا جاتا ہے۔ گوگل سرچ میں کئی عوامل کار فرما ہوتے ہیں جن میں پیج رینک کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ پیج رینک گوگل کا ٹریڈ مارک ہے اور اسٹین فورڈ یونیورسٹی کے نام پر پیٹنٹ ہے۔

مکمل مضمون پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

انٹرنیٹ پر آپ جب بھی کوئی نیا ای میل اکاؤنٹ یا کسی بھی طرح کا کوئی اکاؤنٹ بنانے جاتے ہیں، کیپچا (Captcha﴿ سے آپ کا واسطہ ضرور پڑتا ہے۔ یہ آڑھے ٹیڑھے حروف پر مشتمل ایک تصویر ہوتی ہے جسے پڑھ کر دیئے ہوئے باکس میں لکھنا ہوتا ہے۔ اس کا مقصد یہ معلوم کرنا ہوتا ہے کہ آیا رجسٹریشن کرانے والا انسان ہی ہے یا کوئی سافٹ ویئر بوٹ۔ کسی سافٹ ویئر بوٹ کے لئے اس تصویر میں لکھے ہوئے حروف کر پڑھنا ازحد مشکل ہے۔ لیکن انسان چند سیکنڈز میں یہ الفاظ شناخت کرسکتا ہے۔ کیپچا تصویر کو مشکل تربنانے کے لئے اس پر ٹیکسچر ﴿Texture﴿ اور لائنیں لگادیا جاتا ہے۔ اس طرح سافٹ ویئر بوٹ کے لئے آپٹیکل کریکٹر ریکگنائزر کا استعمال بھی ممکن نہیں رہتا۔ آپٹیکل کریکٹر ریکگنیشن کے عمل میں تصاویر کو ایک خصوصی الگارتھم کے ذریعے اسکین کیا جاتا ہے اور تصویر میں سے متن کو اخذ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ سادہ کیپچا کو او سی آر کے ذریعے پہچانا جاسکتا ہے۔ اسی لئے اب کیپچا کو ممکنہ حد تک پیچیدہ بنایا جاتا ہے۔

ایک اندازے کے مطابق ہر روز انٹرنیٹ پر ساٹھ لاکھ کیپچا حل کئے جاتے ہیں، یعنی لوگ کیپچا دیکھ کر ان کو پہچاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایک کیپچا پہچاننے میں عام انسان اوسطاً دس سیکنڈ کا وقت صرف کرتا ہے انفرادی طور پر یہ وقت یقیناً معمولی ہے لیکن دنیا بھر میں مجموعی طور پر ہر دن ایک لاکھ پچاس ہزار گھنٹے اس کام میں خرچ ہوجاتے ہیں۔ یہ یقیناً وقت ایک ہی بہت ہی بڑی مقدار ہے جو ایک تقریباً فضول کام میں ضائع ہوجاتی ہے۔ ری کیپچا اسی ضائع ہونے والے وقت کا مثبت استعمال کرنے کا ایک طریقہ ہے۔

مکمل مضمون پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

صرف اَن پڑھی ہوئی ای میل

بعض اوقات آپ کو اتنی تواتر سے ای میل پیغامات موصول ہوتے ہیں کہ بہت سے ای میلز آپ بغیر پڑھے ہی چھوڑ دیتے ہیں۔ ہمارے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی معاملہ ہے۔ لیکن اگر بعد میں ای میلز کو پڑھنے کی ضرورت پیش آجائے تو بڑی مشکل ہوجاتی ہے۔ جی میل میں آپ نے دیکھا ہوگا کہ ایسی ای میلز تلاش کرنے کے لئے بظاہر کوئی سہولت نظر نہیں آتی۔ لیکن جناب ایسا بالکل نہیں ہے۔ اگر آپ سرچ باکس میں
label:inbox is:unread
لکھ کر اینٹر کریں تو ان باکس میں موجود تمام ان پڑھی ہوئی ای میلز آپ کو دِکھا دی جائیں گی۔ اسی طرح اگر آپ ان باکس کے بجائے کسی اور لیبل (یا فولڈر) میں ایسی ای میل تلاش کرنا چاہ رہے ہیں تو label:کے بعد اس لیبل کا نام لکھ دیں۔

ایک خاص ای میل کی تلاش

آپ کے باس نے آپ کو لگ بھگ ایک سال پہلے جوےءپی ڈی ایف فائل ای میل کی تھی۔ اب آپ کو وہ ای میل تلاش کرنی ہے …. جبکہ اس ای میل کے بعد آپ کو باس کی جانب سے سینکڑوں ای میلز موصول ہوچکی ہیں۔ پریشانی کی بات تو ہے….!
لیکن اس بڑی پریشانی کا ایک آسان حل ہے۔ آپ اس مخصوص ای میل کے بارے میں کچھ مفید باتیں جانتے ہیں۔ جیسے اس کے ساتھ پی ڈی ایف فائل منسلک تھی اور ای میل ایک سال پہلے ارسال کی گئی تھی۔ اس معلومات کو مدنظر رکھتے ہوئے آپ جی میل کی سرچ بار میں مندرجہ ذیل کیوری لکھیں:
from:Name filename:pdf after:2007/04/01
اس کیوری میں آپ Nameکی جگہ آپ اپنے باس کا نام یا ان کا ای میل ایڈریس تحریر کریں گے اور after کے بعد وہ تاریخ لکھیں گے جس کے بعد ہی آپ کو ای میل موصول ہوئی تھی۔ یاد رہے کہ تاریخ کا فارمیٹ YYYY/MM/DDہوگا۔

مکمل مضمون پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں


© 2008 ماہنامہ کمپیوٹنگ   |  57پریس چیمبرز آئی آئی چند ریگر روڈ، کراچی